Allah ye kaisa manzar
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shaam recited by Mir Hasan Mir
یہ کون سی مستورہ ہے کیا مانگ رہی ہے
اسلام کی خدمت کا صِلا مانگ رہی ہے
ہر صاحبِ غیرت سے ردا مانگ رہی ہے
پردیس میں مرنے کی دُعا مانگ رہی ہے
افسردہ ہے افلاک سیاہ پوش زمیں ہے
جبریل زرا دیکھ یہ زینب تو نہیں ہے
اللہ یہ کیسا منظر ہے
بے پردہ شامیوں میں اولادِپیمبرہے
اللہ یہ کیسا منظر ہے
ندا دے رہا ہے یہ ہنس کر منادی
اے لوگوں گھرو ں سے نکل آو جلدی
سزا ئیں دو ان کو یہ باغی ہیں باغی
بجتے ہیں شادیانے ہر ہاتھ میں پتھر ہے
اللہ یہ کیسا ۔۔۔
کہاں خوف کھاتا ہے ظالم کسی سے
بُلاتا ہے اک اک کو وہ نام لیکے
ہر اک بی بی چھپتی ہے زینب کے پیچھے
خود کو چھپائے زینب فضہ کی پشت پر ہے
اللہ یہ کیسا ۔۔۔
بتاتا ہے شمر آ کے خود شامیوں کو
کہ کاٹا ہے میں نے اسی سے سروں کو
دکھاتا ہے لہرا کے پھر بیبیوں کو
ہاتھوں میں اُس شقی کے اک خوں بھرا خنجر ہے
اللہ یہ کیسا ۔۔۔
ہوا ہے اثر اتنا بینائیوں پر
عجب کشمکش میں ہے اصغر کی مادر
ہر اک نیزہ بردار کہ پاس جاکر
رو رو کے پوچھتی ہے کیایہ میرا اصغر ہے
اللہ یہ کیسا ۔۔۔
اسیروں پہ کیسی مصیبت بنی ہے
ہر اک بی بی بازار میں ڈھوندتی ہے
سکینہ کہیں بھیڑ میں کھو گئی ہے
محشر سے پہلے برپا بازار میں محشر ہے
اللہ یہ کیسا ۔۔۔
قیامت میں کیسی قیامت ہے برپا
تکلم ہے گودی میں اصغر کا لاشہ
عدالت میں خالق کی آتی ہیں زہرا
نظریں جھکی ہیں سب کی نبیوں کے لبوں پر ہے
اللہ یہ کیسا ۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.