Shabbir ke haaton se
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Qasim (a.s) recited by Afzal Mirza
شبیر کے ہاتھوں سے جو گھر میں بنا دولہا
وہ گھوڑوں کی ٹاپوں سے پامال ہوا دولہا
یہ مادر قاسم نے سر پیٹ کے فرمایا
جاتا ہے سوے مقتل بے آب و غذا دولہا
شبیر کے ہاتھوں سے۔۔۔
کنگنا تھا نہ باندھی تھی پوشاک پرانی تھی
اس شان سے میداں میں مرنے کو گیا دولہا
شبیر کے ہاتھوں سے۔۔۔
چوتھی تھی نہ چلے تھے سکھ غم کے حوالے تھے
اس طرز کا دنیا نے دیکھا نہ سنا دولہا
شبیر کے ہاتھوں سے۔۔۔
مقتل میں پہنچتے ہی تیروں سے ہی دعوت
شادی کا ہر اک تحفہ گھر لے کے چلا دولہا
شبیر کے ہاتھوں سے۔۔۔
سرور نے پڑھے صیغے زینب نے بلاییں لی
جب عقد کی مسند سےخوش ہو کے اٹھا دولہا
شبیر کے ہاتھوں سے۔۔۔
اس شان کی شادی تو دیکھی نہ سنی اب تک
پایا نہیں اک خطرہ بے آب رہا دولہا
شبیر کے ہاتھوں سے۔۔۔
سر جس کا تھا نیزے پر اور جسم تھا ریتی پر
کبرا تیرے قسمت کو کیا خوب ملا دولہا
شبیر کے ہاتھوں سے۔۔۔
لو خون کے دریا میں جاتا ہے نہانے کو
کبرا کے مقدر کا ارمان بنا دولہا
شبیر کے ہاتھوں سے۔۔۔
کبرا تو گلے مل کر باجی سے بہت روی
صغرا سے وطن آ کر خود مل نہ سکا دولہا
شبیر کے ہاتھوں سے۔۔۔
داماد کو سینے سے لپٹا لیا سرور نے
جلتی ہُوئی ریتی پر جب رن میں گرا دولہا
شبیر کے ہاتھوں سے۔۔۔
کبرا کو مصائب کی زنجیر ملی عشرت
خود قید مصیبت سے آزاد ہوا دولہا
شبیر کے ہاتھوں سے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.