Qasim jo gire
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Qasim (a.s) recited by Shadman Raza
قاسم جو گرے گھوڑے سے تھا موت کا پہرا
تھا خون میں ڈوبا ہو وہ چاند سا چہرہ
چھلنی تھا بدن تیروں سے ہر زخم تھا گہرا
خوں سر سے بہا بن گیا اَک لڑیوں کا سہرا
اس طرح لرزتا ہو لاشہ نہیں دیکھا
اِس شان کا کوئی کبھی دولھا نہیں دیکھا
ہر جوڑ تھا ٹوٹا ہوا ہر بند جدا تھا
بازو ہے وہ جس پہ کہ تعویز بندھا تھا
کچلا ہوا سینہ تھا لہو سر سے بہا تھا
اِس پھول سے بچے پہ عجب ظلم ہو تھا
یہ وزن تھا ٹاپوں کا وہیں ٹوٹ گئیں تھیں
سب پسلیاں سینے میں کہیں ٹوٹ گئیں تھیں
میداں میں مدد کے لئے چللاتے تھے قاسم
جاتے تھے اِدھر اور اُدھر اتے تھے قاسم
دم اٹکا تھا اور چین نہیں پاتے تھے قاسم
لگتی تھیں جو ٹاپیں تو تڑپ جاتے تھے قاسم
گھوڑوں سے کچل جانے کی زحمت نہ دکھائے
اللہ کسی کو یہ مصیبت نہ دکھائے
شہہ خاک پہ بھائی کا پسر ڈھونڈ رہے ہیں
میداں میں وہ لاشہ ہے کہاں ڈھونڈ رہے ہیں
آنکھوں میں اندھیرا ہے مگر ڈھونڈ رہے ہیں
پھر بھائی کا ہر لختِ جگر ڈھونڈ رہے ہیں
تیورا کے وہیں گرتے ہیں غش آتا ہے شہہ کو
جب جسم کا ٹکڑہ کوئی مل جاتا ہے شہہ کو
شبیر نے جس کو کبھی گودی میں سلایا
ہاتھوں کو بھی چوما کبھی سینے سے لگایا
تقدیر نے یہ آج عجب وقت دکھایا
لاشہ اُسی بچے کا ہے چادر میں اٹھایا
تھامے ہوئے کونے حسنِ خستہ جگر ہیں
اعضا کی یہ گٹھڑی نہیں فروہ کا پسر ہے
سہہ لیتے ہیں کچھ درد بتائے نہیں جاتے
لاشے کبھی حصوں میں اُٹھائے نہیں جاتے
گر شاہ ردا اپنی بچھائے نہیں جاتے
ٹکڑے کبھی قاسم کے اُٹھائے نہیں جاتے
چادر کو جو تھامے ہوئے عباس کھڑے ہیں
اکبر بھی سہارے کے لئے پاس کھڑے ہیں
کیا حال ہے لاشے کا بتایا نہیں جاتا
شبیر سے صدمہ یہ اُٹھایا نہیں جاتا
گہرا ہے بہت زخم چھپایا نہیں جاتا
خیمے کی طرف بڑھتے ہیں جایا نہیں جاتا
اس غم کا کہاں بار اٹھا پائے گی بیوہ
جب لاشِ پسر دیکھے گی مر جائے گی بیوہ
دل اپنا سنبھالا کبھی چادر کو سنبھالا
خیمے کی طرف چلنے لگے سیدِ والا
تاریک ہوا جاتا تھا آنکھوں کا اُجالا
چادر میں بندھی لاش کو جب سامنے ڈالا
فروہ نے یہ پوچھا کہ کہاں لعل میرا ہے
دل ہلتا ہے بتلائیے اس گٹھری میں کیا ہے
گٹھری جو کھلی حشر بپا ہو گیا ہر سو
ٹکڑے تھا بدن لاش کا اور خون بھرے گیسو
ٹاپوں کے نشان سینے میں اور آنکھوں میں آنسو
کہنے لگا آہستہ سے زہرا کا وہ مہرو
یہ دیکھیے جو ایک تنِ صد پاش ہے بھابھی
پہچانیے قاسم کی یہی لاش ہے بھابھی
ماں گر گئی یہ دیکھ کے تیورا کے زمین پر
محشر سے ہی پہلے تھا وہاں خیمے میں محشر
فروہ کو سنبھالے رہیں خود زینب مضطر
شبیر کی آنکھوں میں قمر پھر گیا منظر
لرزش تھی ہر اک ٹکڑے میں کچلا ہوا تن تھا
شبر کا کلیجہ تھا کہ قاسم کا بدن تھا
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.