Abhi tak shaam ke
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shaam recited by Shadman Raza
جنازہ جس کا چھپاے تھے شب کی تاریکی
دمشق میں یہ اسی فاطمہ کی ہے بیٹی
نہ کل تو شام میں پردہ بچا سکا تھا کوی
دکھی حسین کی ماں کہہ رہی ہے یہ مہدی
دعا کو ہاتھ اٹھائے ہیں مادر زینب
بچاے روضے کو روضہ ہے چادر زینب
سروں کو ڈھانپ کر آؤ تمہیں زینب بلاتی ہے
ابھی تک شام کے بازار سے آواز آتی ہے
بتاتے ہیں یہ رستے جو ابھی تک خوں میں ڈوبے ہیں
یہاں سے سید سجاد زنجیروں میں گزرے ہیں
طمانچوں سے سکینہ کو کبھی زینب بچاتی ہے
ابھی تک شام کے۔۔۔
کہیں دروں کی بارش ہے کہیں ہے مارتے پتھر
زمیں کیوں پھٹ نہیں جاتی تماشے کو کھلے ہیں گھر
کبھی بالوں سے زینب اپنے چہرے چہرے کو چھپاتی ہے
ابھی تک شام کے۔۔۔
نہ خود ہے زینب ناچار بھی اس ایک رسی میں
بندھے ہیں عابد بیمار بھی اس ایک رسی میں
سکینہ کس طرح پنجوں کے بل پر چل کے جاتی ہے
ابھی تک شام کے۔۔۔
بہت روتے ہیں عابد دیکھ کر یہ حالت زینب
کہ ایسا امتحاں نبیوں سے بھی لیتا نہیں یا رب
امامت سر جھکا کر خون کے آنسوں بہاتی ہے
ابھی تک شام کے۔۔۔
خدایا ہے یہی مشکل کشاے وقت کی پوتی
یہ سارا شام کہتا ہے سکینہ چھپ نہیں ہوتی
لہو کانوں سے بہتا ہے طمانچے منہ پہ کھاتی ہے
ابھی تک شام کے۔۔۔
خدا اور مصطفیٰ کے دین کا پابند ہے کوی
نہ مجمے میں ہزاروں کے بھی غیرت مند ہے کوی
مسلمانوں کی غیرت پر بہت آنسوں بہاتی ہے
ابھی تک شام کے۔۔۔
شرابی بد نصب دربار میں کتنے لعیں دیکھے
کھڑی زینب تھی جس نے سات سو کرسی نشیں دیکھے
مدد کو ساتویں در پر علی کو یہ بلاتی ہے
ابھی تک شام کے۔۔۔
ہے جاری شام و کوفہ میں جفا کا سلسلہ اب تک
کہ بھای بیکفن اور بہن ہے بے ردا اب تک
نکل کر قید خانے سے سکینہ یاد آتی ہے
ابھی تک شام کے۔۔۔
یہی زہرا کی خواہش ہے زیارت شام کی کرنا
وہاں روضے پہ جا کر بھای کا پرسہ اسے دینا
عزا کا فرش روضے پر یہی بی بی بچھاتی ہے
ابھی تک شام کے۔۔۔
سفر ہوتا نہیں ہے ختم اب بھی کرب زینب کا
ہماری ماییں بہنیں کیوں قمر ہے آج بے پردہ
مشیعت یہ امام عصر کی گردن جھکاتی ہے
ابھی تک شام کے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.