Abbas tu kahan hai
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shaam recited by Safdar Abbas
پاسبان ردا اے شہنشاہِ وفا عباس
شرم و حیا کی ملکہ بلوے میں بے ردا ہے
عباس تو کہاں ہے
بے غیرتوں کا مجمع بازار بھی سجا ہے
عباس تو کہاں ہے
شمر لعیں یہ بولا بنت علی سے آ کر
عباس کو بلا لے تھا تجھکو ناز جس پر
سادات سن کے روے فضہ کی یہ بکا ہے
عباس تو کہاں ہے
شرم و حیا کی ملکہ۔۔۔
نا پاک ظالموں نے نرغے میں شاہزادی
بالوں سے منہ چھپا کر زینب نے یہ صدا دی
پتھر دلوں سے چادر سجاد مانگتا ہے
عباس تو کہاں ہے
شرم و حیا کی ملکہ۔۔۔
نیزے پہ بھای کا سر رویا کھلے سروں پر
سجاد پہنے لنگر رویا کھلے سروں پر
ہر گام ظلم سہہ کر ہر دل پکارتا ہے
عباس تو کہاں ہے
شرم و حیا کی ملکہ۔۔۔
جکڑے رسن میں قیدی بازار میں جو آے
برسا رہے تھے پتھر أہل دمشق ہاے
ان زخم قیدیوں کا ہر زخم پوچھتا ہے
عباس تو کہاں ہے
شرم و حیا کی ملکہ۔۔۔
تیرہ سو میل کی وہ کیا سخت تھی مسافت
سب چور تھے تھکن سے پہنچے جو باب ساعت
اب قیدیوں کی پیشی ایک اور مرحلہ ہے
عباس تو کہاں ہے
شرم و حیا کی ملکہ۔۔۔
لہرا کے تازیانہ حاکم پکارا جاؤ
عباس کے بہن کو دربار لے کے آؤ
ظالم کا حکم سن کر شمر لعیں بڑھا ہے
عباس تو کہاں ہے
شرم و حیا کی ملکہ۔۔۔
صفدر بھی نوحہ خواں ہے اور مظہر عابدی بھی
الفاظ رو رہے ہیں اور سارے ماتمی بھی
زینب کی بیکسی پر اک مصرہ مرثیہ ہے
عباس تو کہاں ہے
شرم و حیا کی ملکہ۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.