Ay momino sunata
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Qasim (a.s) recited by Mesum Abbas
سنو سنو اے مومنو
اے مومنو سناتا ہوں پر درد واقعہ
دولہا بنا جو حضرتِ شبیر کا لاڈلا
عاشور کی وہ شب وہ قیامت کی تھی گھڑی
ابنِ حسن کے ہاتھ میں مہندی رچی ہوی
سہرا بھی ناد علی کا سجا ہوا
اے مومنو سناتا ہوں۔۔۔
اتنا حسیں لگتا تھا وہ نور پیرہن
سہرے میں آفتاب امامت کی وہ کرن
آنکھیں ستارہ جیسی تھی چہرہ تھا چاند سا
اے مومنو سناتا ہوں۔۔۔
بہنوں نے سر پہ ڈال کے آنچل بلاییں لی
سب بھائیوں نے پیار سے بڑھ کر دعائیں دی
سایہ علم کا کرتے تھے عباس با وفا
اے مومنو سناتا ہوں۔۔۔
آشکوں کے پھول گوندھ کے ماں نے کہا پسر
اے لال میرا شرم سے جھکنے نہ پاے سر
رنگین تیرے خون سے ہو دشتِ کربلا
اے مومنو سناتا ہوں۔۔۔
بولا حسن کا لال میری بھی ہے آرزو
بخت جدال پہلے ہمارا بہے لہو
اذن جہاد دیتے نہیں ہیں مجھے چچا
اے مومنو سناتا ہوں۔۔۔
اماں ہمیں چچا سے پےء شیر کبریا
اذن جہاد آپ ہی دلوایےء زرا
یاد آے گا لعینوں کو خیبر کا معرکہ
اے مومنو سناتا ہوں۔۔۔
ماں نے کہا کی میں تو بہت عرض کر چکی
ابنِ بتول سنتے نہیں التجاء میری
تم خود ہی جا کے ان سے کہو اپنا مد دعا
اے مومنو سناتا ہوں۔۔۔
قاسم نے ماں کے حکم پہ شہ سے بصد بکا
ہاتھوں کو اپنے جوڑ کے روتے ہوے کہا
اذن وغا یتیم کو دے شاہ کربلا
اے مومنو سناتا ہوں۔۔۔
بولے حسین تم تو نشانی حسن کی ہو
اے لال مجھ غریب کا تم امتحان نہ لو
تم مر گےء تو کیسے جیےء گا یہ غمزدہ
اے مومنو سناتا ہوں۔۔۔
تعویذ اک بازو سے قاسم نے کھول کر
مولا حسین کو دیا قدموں پہ رکھ کے سر
تعویذ میں پیام حسن تھا لکھا تھا ہوا
اے مومنو سناتا ہوں۔۔۔
اماں کی جان بھای کے قلب و جگر حسین
کربوبلا میں فدیہ ہے میرے یہ نورِ عین
قاسم کو دینا اذن وغا حکم ہے میرا
اے مومنو سناتا ہوں۔۔۔
تحریر پڑھ کے رو دیےء مظلوم کربلا
سر کو جھکا کے اذن وغا دے کے یہ کہا
پردیس میں ہمارا مقدر بگڑ گیا
اے مومنو سناتا ہوں۔۔۔
اذن جہاد ملتے ہی قاسم ہوے نہاں
فرط خوشی سے ہو گیا چہرے کا رنگ لال
دولہا کمر کو کس کے پےء جنگ چل دیا
اے مومنو سناتا ہوں۔۔۔
سہرا تھا سر پہ ہاتھ میں کنگنا بندھا ہوا
دولہا جو قتل گاہ کی جانب چلا گیا
خیموں میں شاہ والا کے کہرام ہو گیا
اے مومنو سناتا ہوں۔۔۔
حملہ کیا حسن کے پسر نے کچھ اس طرح
اپنے ہدف پہ شیر جھپٹتا ہے جس طرح
تلواریں اپنی پھینک کے چھپتے تھے اشقیاء
اے مومنو سناتا ہوں۔۔۔
ارزق کے چار بیٹے تہہ تیغ کر دیےء
حد نگاہ راستے لاشوں سے بھر دیےء
قاسم کو داد دیتا تھا میدان کربلا
اے مومنو سناتا ہوں۔۔۔
وہ کمسنی وہ بھوک وہ گرمی تھی الامان
وہ پیاس تھی کی خشک تھی معصوم کی زباں
کمسن حسن کا پیاس سے بہ حال ہو گیا
اے مومنو سناتا ہوں۔۔۔
فوج عدو نے موقع غنیمت یہ جان کر
گھیرا حسن کے لال کو تلواریں تان کر
حملے پہ حملہ چار طرف سے کیا گیا
اے مومنو سناتا ہوں۔۔۔
آخر کو دشتِ گرم پہ وہ گل بدن گرا
آواز دی حسین کو جلد آیےء چچا
آقا غلام آپ کا گھوڑے سے گر گیا
اے مومنو سناتا ہوں۔۔۔
دوڑے حسین اکبر و عباس بھی چلے
بھاگی سپاہ شام تو گھوڑے بدک گےء
لاشہ حسن کے لال کا پامال ہو گیا
اے مومنو سناتا ہوں۔۔۔
سر تھا کہیں تو ہاتھ کہیں اور بدن کہیں
ٹکڑوں میں بٹ گیا تھا وہ فروا کا نازنیں
دولہا کا قتل گاہ میں لاشہ بکھر گیا
اے مومنو سناتا ہوں۔۔۔
دامن میں اپنے لاش کے ٹکڑے شہ ہدا
چنتے تھے اور کہتے تھے اے میرے مہ لقا
دلہن سے تیری جا کے کہے گا حسین کیا
اے مومنو سناتا ہوں۔۔۔
میثم تڑپ کے رہ گیا ریحان کا قلم
نوحہ حسن کے لال کا جس دم کیا رقم
ہر اشک دولہا دولہا کی دیتا رہا صدا
اے مومنو سناتا ہوں۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.