Abbas teri behno
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shaam recited by Farhan Ali Waris
عباس تیری بہنوں کو بازار میں لایا جاتا ہے
سورج نے کھلے سر جس کو گھر میں بھی کبھی نہ دیکھا
افسوس وہی شہزادی بلوے میں گیء واویلا
زینب کی یہاں آمد پر دربار سجایا جاتا ہے
...عباس تیری بہنوں
کس شان سے تیری زینب محمل میں چلی تھی گھر سے
اور آج سفر پر نکلی تو راہ میں پتھر برسے
بے پردہ نبی زادی کو گلیوں میں پھرایا جاتا ہے
...عباس تیری بہنوں
کیا تجھ سے کہوں اے غازی دیکھیں ہیں یہاں غم کیسے
راہوں میں سکینہ تیری پانی کے لیے گر روےء
بچی کو دکھا کر پانی ریتی پہ بہایا جاتا ہے
...عباس تیری بہنوں
بے درد ہے بے غیرت ہے یہ شام کے رہنے والے
آنکھوں پہ پڑے ہیں پردےاور انکے زبان پہ تالے
یہ چپ ہے نبی زادی کو بلوے میں بلایا جاتا ہے
...عباس تیری بہنوں
اک لمحہ نہیں ہے ایسا ایذاء نہ کوئی پہنچاے
تھک کر وہ کہیں گر بیٹھے سجاد کو نیند آجائے
ہاے ہاے زنجیر ہلا کر قیدی کو جگایا جاتا ہے
...عباس تیری بہنوں
دہرایا گیا ماضی کو ہے ظلم وہی اور غم بھی
امت بھی وہی چہرے بھی دربار وہی اور ہم بھی
کل اماں جہاں آییں تھی اب مجھ کو بلایا جاتا ہے
...عباس تیری بہنوں
راہوں میں کسی منزل پر دیتا جو ہمیں کوئی چادر
لے جاتے ہیں پھر وہ چادر حاکم کے سپاہی آکر
اک غم میں تیری زینب کو کیء بار رلایا جاتا ہے
...عباس تیری بہنوں
برسات کبھی دروں کی ہوتی ہے کہیں سنگ باری
اے بھائی بتا کیوں نہ ہو جینے سے مجھے بیزاری
سادات کو ان راہوں میں ہر گام ستایا جاتا ہے
...عباس تیری بہنوں
یہ فرش عزا یہ ماتم زینب کا قرض ہے تم پر
دنیا سے کہیں پھر کیوں نہ فرحان اور مظہر رو کر
جو آل نبی پر گزری نوحوں میں سنایا جاتا ہے
...عباس تیری بہنوں
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.