Abbas tere jaane
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shaam recited by Farhan Ali Waris
قافلہ دشت بلا سے جو سوئے شام چلا
لاش عباس علمدار پہ زینب نے کہا
عباس عباس
چھن گئی سر سے ردا کوئی باقی نہ رہا
عباس تیرے جانے کے بعد
طعنے دیتا ہے مجھے دیکھکے یوں شمر لعیں
تیری آواز پہ عباس تیرا آتا نہیں
بن گئی فرش عزا تیرے لئے اب یہ زمیں
شام جانا ہی پڑا یہ ستم مجھ پہ ہوا
عباس تیرے جانے...
روکے کلثوم تیری یاد میں کرتی ہیں بکا
تیری ہیبت سے کوئی سوئے نہیں اہل جفا
کیسی بدلی یہ تیرے بعد زمانے کی ہوا
خوش ہوئے اہلِ ستم سو نہیں پائے جو ہم
عباس تیرے جانے...
راہ میں آل پیمبر کا دلاسہ میں بنی
شام کے لوگ تماشائی تماشہ میں بنی
زخم سادات نے پائے تو مسیحا میں بنی
میں ہی سالار بنی میں ہی علمدار بنی
عباس تیرے جانے...
ہائے دربار میں اولاد نبی
آ پہنچی
اور سکینہ کو کنیزی میں بلاتا ہے شقی
کس سے فریاد کروں تو ہی بتا میرے اخی
اور کیا ہوگا ستم کتنے لاچار ہیں ہم
عباس تیرے جانے..…
نام لیکر جو ستمگر نے بلایا مجھ کو
اماں فضہ نے پس پشت چھپایا مجھکو
یوں بھی پردیس میں اعداء نے ستایا مجھکو
ایسے عالم میں بھلا کس کو میں دیتی صدا
عباس تیرے جانے...
ہند زندان میں آئی تو یہ کہرام اٹھا
میری بربادی کا جب ہند نے احوال سنا
اپنا سر پیٹ کے وہ کرنے لگی واویلا
دیکھ کیسا ہے ستم قید ہیں اہلِ حرم
عباس تیرے جانے...
طوق و زنجیر سے سجاد جو آزاد ہوئے
قبر پہ بالی سکینہ کے گئے روتے ہوئے
رخ سوئے کرب و بلا کر کے یہی بین کئے
سہ نہیں پائی ستم دختر شاہ امم
عباس تیرے جانے...
شام سے مظہر و فرحان رہائی جو ملی
آئے مقتل میں سلامی کے لئے سب قیدی
گھٹنیوں چلتی ہوئی بھائی کے مرقد پہ گئی
تھے یہ زینب کے سخن مر گئی کیوں نہ بہن
عباس تیرے جانے...
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.