Abbas ka sar
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shaam recited by Safdar Abbas
آل نبی کا قافلہ بازار جو پہنچا
چہرے تھے زرد غم سے سروں پر نہ تھی ردا
غازی کا سر جو نیزے سے آیا زمیں پر
فضہ نے دل کو تھام کے نوحہ یہی کیا
نہ دیکھ سکے گا زینب کو
ہاے بے چادر عباس کا سر
رکتا ہی نہیں ہے نیزے پر
دورانِ سفر عباس کا سر
سجاد سے زینب کہتی تھی
منظر وہ دیکھ نہ پاؤں گی
یہ ظلم ہوا تو میرے پسر
رو رو کے یہی مر جاؤں گی
ناقے کے گلے میں ڈال دیا
ظالم نے اگر عباس کا سر
رکتا ہی نہیں ہے۔۔۔
گرتی ہے وہ پشت ناقہ سے
یہ بار اٹھانا مشکل ہے
عمو سے بھتیجی کی الفت
کیا ہے یہ بتانا مشکل ہے
ناقے پہ سکینہ رکتی نہیں
اور نیزے پر عباس کا سر
رکتا ہی نہیں ہے۔۔۔
یہ زخم کبھی بھر سکتا نہیں
بھولے گا دل احساس نہیں
بابا کی شہادت پر رویا
پھر رویا کبھی عباس نہیں
کربل سے یہاں تک روتا رہا
ہر منزل پر عباس کا سر
رکتا ہی نہیں ہے۔۔۔
زنداں سے وطن جا کر بھی ہم
آرام سے کب سو پاےنگے
جب بند کریں گے آنکھوں کو
منظر وہ ہمیں یاد تڑپاےنگے
شبیر کا قاسم و اکبر کا
بے شیر کا سر عباس کا سر
رکتا ہی نہیں ہے۔۔۔
سجاد بتانا چاہوں اگر
تجھ سے بھی نہیں کہہ پاؤں گی
کچھ زخم جگر تو ایسے ہی
جو قبر تلک لے جاؤں گی
شبیر کا سر بازو میں رسن
اکبر کا جگر عباس کا سر
رکتا ہی نہیں ہے۔۔۔
صفدر وہ قیامت کا منظر
لکھتے ہوے مظہر روتا تھا
کہتی تھی بہن آجا غازی
اور شمر یہ ہنس کر کہتا تھا
کیا تیری مدد کو آے گا
اے نوحہ گر عباس کا سر
رکتا ہی نہیں ہے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.