Rukh se ek baar
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Ali (a.s) recited by Raza Abbas Zaidi
ھائے حیدر کے جنازے پہ عجب منظر تھا
بیٹیاں قدموں سے لپٹی تھیں بصد آہ و بکا
بڑھ کے شبر نے جو چہرے سے کفن بند کیا
دیکھکر بھائی کے چہرے کو یہ زینب نے کہا
رخ سے اک بار کفن اور ھٹادو بھیا
میرے بابا کا مجھے چہرا دکھادو بھیا
آج بابا جو میرے گھر سے چلے جائینگے
پھر مجھے شامِ غریباں میں نظر آنئیگے
اتنے دن کیسے گزارونگی بتادو بھیا
میرے بابا کا مجھے۔۔۔
رخ سے اک بار کفن۔۔۔
جیسے اماں کی ردا میں تھی شفا نانا کی
کیا یہ ممکن ھے کے اُٹھ جائیں میرے بابا بھی
میری چادر میرے بابا کو اُڑھا دو بھیا
میرے بابا کا مجھے۔۔۔
رخ سے اک بار کفن۔۔۔
ھائے شبیر سے زینب نے کہا رو رو کر
سُونا لگتا ھے عمامے کے بنا بابا کا سر
سر پہ بابا کے عمامہ تو سجادو بھیا
میرے بابا کا مجھے۔۔۔
رخ سے اک بار کفن۔۔۔
کیسے بتلاؤں یہ دل غم سے پھٹا جاتا ہے
کیا جدا باپ سے ھوکر بھی جیا جاتا ہے
اپنی بہنوں کو فقط اتنا بتادو بھیا
میرے بابا کا مجھے۔۔۔
رخ سے اک بار کفن۔۔۔
آ رہی ھونگی بقیعہ سے صدا سن کے میری
سر پہ بابا کے نا پڑ جائے نظر اماں کی
زخم اماں کی نگاھوں سے چھپادو بھیا
میرے بابا کا مجھے۔۔۔
رخ سے اک بار کفن۔۔۔
غم میں بابا کے تڑپتا ہے زرا دیکھو تو
دور بیٹھا ہے بُلا لاؤ میرے غازی کو
پاس کچھ دیر تو بابا کے بٹھادو بھیا
میرے بابا کا مجھے۔۔۔
رخ سے اک بار کفن۔۔۔
خون بابا کی جبیں سے وہ گرا تھا جس پہ
اپنے بابا کی نشانی میں بنالونگی اُسے
میرے بابا کا مصلٰی مجھے لادو بھیا
میرے بابا کا مجھے۔۔۔
رخ سے اک بار کفن۔۔۔
گھر سے جاتا تھا جنازہ جو علی کا باھر
بیٹیاں کہتی تھیں زیشان و رضا رو رو کر
آخری بار تو بابا سے ملادو بھیا
میرے بابا کا مجھے۔۔۔
رخ سے اک بار کفن۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.