Mere bachon meri
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Ali (a.s) recited by Raza Abbas Zaidi
وہ زخمی علی اور وہ اکیسویں کی شب
بچوں سے علی بولے قریب آؤ میرے سب
سر باپ کا چوما تو یہ کہنے لگی زینب
سایہ میرے بابا کا سلامت رہے یا رب
یہ سنتے ہی منہ پھیر کے رونے لگے حیدر
کیوں روتے ہیں جب بچوں نے یہ پوچھا لپٹ کر
میرے بچوں میری آخری رات ہے
گھر میں کہرام تھا جب علی نے کہا
میرے بچوں میری آخری رات ہے
کل یہی سے اٹھے گا جنازہ میرا
میرے بچوں میری آخری رات ہے
جب کفن اوڑھ کر گھر سے جاؤں گا میں
جانتا ہوں بہت یاد آؤں گا میں
مجھکو ڈھونڈو گے حجرے میں جا کر مگر
چاہ کر بھی تمہیں مل نہ پاؤں گا میں
دیکھلو چہرہ جی بھر کے تم باپ کا
میرے بچوں میری آخری رات ہے
گھر میں کہرام تھا۔۔۔
حال بازار کا آیا جب رو برو
رو کے حیدر نے بیٹوں سے کی گفتگو
میرے سر سے جو آیا ہے بہہ کر ابھی
صاف کر دو میری آنکھ سے وہ لہو
دیکھلوں میں زرا بیٹیوں کی ردا
میرے بچوں میری آخری رات ہے
گھر میں کہرام تھا۔۔۔
دیکھو عباس جب قید ہوگی بہن
نہ ہی تم ہونگے اور نہ حسین و حسن
میرے سجاد کو پاس لاؤ میرے
اس نے چلنا ہے کانٹوں پہ سہہ کر چھبھن
بوسہ لے لوں سجاد کے پاؤں کا
میرے بچوں میری آخری رات ہے
گھر میں کہرام تھا۔۔۔
میرے ہوتے ہوے در گرایا گیا
فاطمہ کو طمانچہ لگایا گیا
مر چکا تھا وہی جب میرے سامنے
ہاتھ پر تعزیہ لگایا گیا
دفن ہو جاے اب بدن بھی میرا
میرے بچوں میری آخری رات ہے
گھر میں کہرام تھا۔۔۔
میری ایک ضرب پر دیکھو رونا نہیں
یاد کرنا وہ خنجر وہ جلتی زمیں
ہو گا جب ماں کی گودی میں بیٹے کا سر
تیرہ ضربیں چلاے گا جس پر لعیں
آخری بار میں چوم لوں وہ گلا
میرے بچوں میری آخری رات ہے
گھر میں کہرام تھا۔۔۔
جن کو کھانا کھلاتا تھا جا کر علی
ان کا میرے علاوہ نہیں ہے کوئی
تم خیال ان یتیموں کا رکھنا حسن
بیٹھنا ساتھ جب یاد آے میری
کل سے دوں گا انہیں کیسے میں حوصلہ
میرے بچوں میری آخری رات ہے
گھر میں کہرام تھا۔۔۔
اے رضا اور زیشان کیا وقتِ تھا
ہاتھ زینب کا شبر کو سونپا گیا
سر جھکا کر بہت روی ام البنین
آخری سانس میں جب علی نے کہا
سونپ دوں غازی کو شبیر کو
میرے بچوں میری آخری رات ہے
گھر میں کہرام تھا۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.