Matam hai fazaon
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Ali (a.s) recited by Anj. Parwane Shabbir
ماتم ہے فضاؤں میں شہ کون و مکاں کا
اس غم سے فضا کوفے کی تھرای ہوی ہے
اب عرش پہ اشکوں کی گھٹا چھای ہوی ہے
اور تاروں کی آنکھوں میں نمی آی ہوی ہے
ہر زرے کی اشکوں سے شناسائی ہوی ہے
ماتم ہے فضاؤں میں۔۔۔
وہ غم ہے کہ اسلام کا لرزا ہے سویرا
سکتہ ہے ہر ایک گام پہ سناٹوں کا ڈیرا
خاموش فضاؤں میں ہے ہر سمت اندھیرا
خوں روتا ہے انیسویں رمضاں کا سویرا
ماتم ہے فضاؤں میں۔۔۔
فرق شہ والا ہوا شق ضرب ستم سے
مولا جو تڑپنے لگے سر ہاتھوں سے تھامے
حسنین نے رومال کسا سر پہ علی کے
چہرے کو بھگوتے ہی رہے خون کے دھارے
ماتم ہے فضاؤں میں۔۔۔
روتے ہوے عباس کی ماں نے کہا آقا
صدقے کروں عباس کو تجھ پر سے میں مولا
حیدر نے کہا یہ تو ہے شبیر کا فدیہ
اور ہوگا محافظ یہی زینب کی ردا کا
ماتم ہے فضاؤں میں۔۔۔
کہنے لگے زینب سے علی پھر یہ تڑپ کر
کرتا ہوں تجھے صبر کی تلقین میری دختر
بازو میں رسن ہوے گی چھن جاے گی چادر
ہمراہ نہ ہوگا کوئی جز عابد مضطر
ماتم ہے فضاؤں میں۔۔۔
کٹ جاےنگے عباس علمدار کے شانے
لٹ جاے گا گھر عصر کو جل جاےنگے خیمے
پھلاےنگے جونہی شام غریباں کے اندھیرے
بیٹی میری پہرہ تجھے دینا ہے اکیلے
ماتم ہے فضاؤں میں۔۔۔
زینب تیرے آنسوں نہیں حیدر کو گوارا
کربل میں نہیں دیگا تجھے کوئی دلاسہ
مت رو میری بیٹی کے ابھی زندہ ہے بابا
پھر رو دیےء خود شانوں کو آنکھوں سے لگاے
ماتم ہے فضاؤں میں۔۔۔
جب سب کو علی نے کیا شبر کے حوالے
بے چین ہوے سنتے ہی عباس کے نالے
سینے سے لگا کر کہا آنکھوں کے اجالے
عباس تجھے کرتا ہوں سرور کے حوالے
ماتم ہے فضاؤں میں۔۔۔
آنسوں نکل آے جونہی لب چومے حسن کے
گریہ کیا سرور کے گلے کے لئے بوسے
پھر آخری انگڑائی لی اور بچوں کو بولے
کرتا ہوں تمہیں خالق اکبر کے حوالے
ماتم ہے فضاؤں میں۔۔۔
اکیسویں رمضاں کی سحر کرتی ہے گریہ
حسنین کے سر پر نہ رہا باپ کا سایہ
کلثوم ہے بے چین تو زینب کو ہے سکتہ
اٹھتا ہے رشید اب میرے مولا کا جنازہ
ماتم ہے فضاؤں میں۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.