Mar gaya baap
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Ali (a.s) recited by Raza Abbas Zaidi
عجیب وقت ھے یہ فاطمہ کے بیٹوں پے
جنازہ بابا کا گھر سے اُٹھائیں وہ کیسے
بہن کوجب بھی چھڑاتے ہیں بڑھکےمیت سے
وہ بار بار لپٹتی ھے باپ سے جاکے
مر گیا باپ مگر مانتی نہیں زینب
چھڑانے سے بھی کفن چھوڑتی نہیں زینب
کبھی وہ بابا کے گالوں پہ گال رکھتی ہے
کبھی وہ شانے ہلاتی ہے ماتھا چومتی ہے
یتیمی کیا ہے ابھی جانتی نہیں زینب
مر گیا باپ مگر۔۔۔
قریب آکے کبھی چہرا دیکھتے ہیں حسین
بہن کی سانسوں کی آواز سن رہے ہیں حسین
پدر سے لپٹی ہے کچھ بولتی نہیں زینب
مر گیا باپ مگر۔۔۔
یہ پہلا غم ہے ابھی روک لے بہن آنسو
کہا حسین نے زینب کے چوم کر بازو
یہ تیرا کوفے میں غم آخری نہیں زینب
مر گیا باپ مگر۔۔۔
گرے جوان کی لاشے پہ جسطرح کوئی
گری تھی باپ کی میت پہ اسطرح بیٹی
حسن اُٹھاتے رہے پر اُٹھی نہیں زینب
مر گیا باپ مگر۔۔۔
یہ روکے فضہ سے کہنے لگے حُسین و حسن
وہ زخم دیکھ رہی ھے ہٹاکے ہٹاکے کفن
شکستہ باپ کا سر بھولتی نہیں زینب
مر گیا باپ مگر۔۔۔
نشانی بابا کی سینے سے جب لگائیگی
اُسے عمامے سے بابا کی خوشبو آئیگی
لہو لگا ہے مگر پونچھتی نہیں زینب
مر گیا باپ مگر۔۔۔
مدد کو آئیں بقیعہ سے فاطمہ زہراؑ
وہ دیکھ دیکھ روتی ہے ھے باپ کا چہرا
ابھی کسی کی طرف دیکھتی نہیں زینب
مر گیا باپ مگر۔۔۔
تمہاری آس پہ جی لیگی اب بہن عباس
قریب آکے چھڑادو تمہی کفن عباس
تمہارا کہنا کبھی ٹالتی نہیں زینب
مر گیا باپ مگر۔۔۔
قریب آئے جو غازی بہن نے چھوڑا کفن
تو بولے غازی سے ذیشان اور رضا یہ حسن
تمہارا چہرا اگر دیکھتی نہیں زینب
چھڑانے سے بھی کفن چھوڑتی نہیں زینب
مر گیا باپ مگر۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.