Aage kate hue sar
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shaam recited by Farhan Ali Waris
گیارہ محرم کی آئی سحر
آئے رسن لے کے کچھ اہلِ شر
قیدی بنی ساری شہزادیاں
اک ریسماں میں سبھی نوحہ گر
یوں کربلا سے کیا آل نبی نے سفر
آگے کٹے ہوئے سر پیچھے کھلے ہوئے سر
ماؤں کی نظاروں میں نورِ نظر
بہنوں کی نظاروں میں بھائی کے سر
محمل کجاوے نہ ہودج کوئی
کانٹوں بھرے راستوں سے گزر
نوحہ اسیروں کا ہے
کیسے اٹھائیں نظر
آگے کٹے ہوئے سر۔۔۔
ناقے سے بالی سکینہ گری
اور قافلے سے جدا ہو گئی
آغوش میں سیدہ نے لیا
اتنے میں زینب وہاں آ گئی
روکر کہا دیکھ لو
اماں ہمارا سفر
آگے کٹے ہوئے سر۔۔۔
تقریب منزل پہ چلی چوتھا قیام
عیسائی مسلم نے کی صلح عام
اک شخص لے آیا کچھ چادریں
تاریخ میں جس کا یحییٰ ہے نام
معلوم جب یہ ہوا
آل نبی ہے مگر
آگے کٹے ہوئے سر۔۔۔
کیا ظلم کی انتہا ہو گئی
نو بار چادر ملی پھر چھنی
اب اپنے غازی کو آواز دے
دیتا تھا زینب کو طعنے شقی
یہ دیکھ کر گر گیا
نیزے سے غازی کا سر
آگے کٹے ہوئے سر۔۔۔
مجمع لعینوں کا راہ کٹھن
برسر پتھر سبھی مرد و زن
زینب کریں کیسے اپنا دفاع
گردن میں ہاتھ اور اس میں رسن
خود سے نہیں اٹھ سکی
جب گر گئی خاک پر
آگے کٹے ہوئے سر۔۔۔
زینب پہ ٹہرے نہ کوئی نظر
قرآن پڑھنے لگا شہ کا سر
بابا کو دیکھا تو رونے لگا
زینب کو دیکھا ہوا نوحہ گر
سجاد بے بس ہوا
جائے تو جائے کدھر
آگے کٹے ہوئے سر۔۔۔
راستے میں آیا جو شیریں کا گھر
شیریں کے کانوں میں پہنچی خبر
خوش ہو کے نکلی حسین
آ گئے
رونے لگی پھر وہ یہ دیکھ کر
آیا ہے کس حال میں
آقا میرا میرے گھر
آگے کٹے ہوئے سر۔۔۔
اہلِ حرم نوحہ گر آ گئے
نیزوں پہ شہداء کے سر آ گئے
شبیر وعدے نبھاتے ہوئے
اک رات راہب کے گھر آ گئے
راہب کا دل پھٹ گیا
یہ قافلہ دیکھ کر
آگے کٹے ہوئے سر۔۔۔
بازار تو مختصر ہی سا تھا
اڑتیس گھنٹوں میں وہ طے ہوا
جب باب ساعت پہ پہنچے حرم
فرحان و مظہر عجب وقت تھا
کس طرح داخل ہوئے
دربار میں نوحہ گر
آگے کٹے ہوئے سر۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.