Baap ki tarha
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Ali (a.s) recited by Ameer Hasan Aamir
اکیسویں کی صبح قیامت کا تھا سماں
تھرا رہا تھا چاند لرزتا تھا آسماں
بیت الشرف میں بیٹھے تھے سب لوگ نیم جاں
حیدر نے باری باری ہر ایک پر نگاہ کی
زینب کو جونہی دیکھا تو اک رد آہ کی
بیٹی کو دیکھ کے رونے لگے علی
سرور کا ہاتھ تھام کے کہنے لگے علی
باپ کی طرح کلیجے سے لگانا بیٹا
پھر میری لاش سے زینب کو چھڑانا بیٹا
بیٹیاں باپ سے مانوس بہت ہوتی ہے
چھوٹی چھوٹی سی مصیبت پہ بہت روتی ہے
زخم سر کا میری زینب سے چھپانا بیٹا
باپ کی طرح کلیجے سے۔۔۔
بین احسان یتیمی سے کرے گھبراکر
لاش پر میری جو گر جاے پچھاڑیں کھا کر
کر کے دم ناد علی اسکو اٹھانا بیٹا
باپ کی طرح کلیجے سے۔۔۔
ہاے یہ ڈر ہے مجھے جان کو کھوتے کھوتے
میری بچی کہیں مر جاۓ نہ روتے روتے
چھپ کے زینب سے کفن مجھکو اڑھانا بیٹا
باپ کی طرح کلیجے سے۔۔۔
کارواں امن کا سب ظلم و ستم لوٹیں گے
میری بچی پہ بہت رنج و الم ٹوٹیں گے
ہر مصیبت سے میرے بعد بچانا بیٹا
باپ کی طرح کلیجے سے۔۔۔
لاش پر میری تو جی بھر کے ابھی رولے گی
پر تیری لاش پہ یہ لاکھوں ستم جھیلے گی
ناز سارے میری زینب کے اٹھانا بیٹا
باپ کی طرح کلیجے سے۔۔۔
پھر یہ کہنے لگے آنکھوں سے بہا کر آنسوں
چوم لینا میری جانب سے بہن کے بازو
جس گھڑی مرنے کو میدان میں جانا بیٹا
باپ کی طرح کلیجے سے۔۔۔
چین سے راتوں کو زینب نہ کبھی سوے گی
میرے ویران مصلے پہ بہت روے گی
کر کے تلقین اسے آس بندھانا بیٹا
باپ کی طرح کلیجے سے۔۔۔
صبر وہ میری جدائی پہ نہ کر پاے گی
مجھکو جو قبر میں دیکھے گی تو مر جاۓ گی
ساتھ میں اسکو جنازے میں نہ لانا بیٹا
باپ کی طرح کلیجے سے۔۔۔
عینی خاموش ہوے مولا شہادت پای
اٹھا تابوت جو عامر تو صدا یہ آی
مجھ پہ جو گزری مصیبت نہ بتانا بیٹا
باپ کی طرح کلیجے سے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.