Jaise jaise raat
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shabe Ashoor recited by Nadeem Sarwar
جیسے جیسے رات جا رہی ہے
ایک علم کے سائے میں خیمے
مہوے دُعا خیموں میں پیاسے
پیاسوں کی آواز فضا میں
شکرِ خدا دوہرا رہی ہے
جیسے جیسے رات ۔۔۔
دُور وطن سے کچھ پردیسی
سہہ کے ازیّت تشنہ لبی کی
دیکھ رہے ہیں جانبِ دریا
موج قیا مت ڈھا رہی ہے
جیسے جیسے رات ۔۔۔
آمنے سامنے دو لشکر ہیں
صبر ادھر اُس جا خنجر ہیں
فوج اِدھر مصروفِ عبادت
اک تیغیں چمکا رہی ہے
جیسے جیسے رات ۔۔۔
ایک بہن کو فکر یہی ہے
رات یہ کیوں ڈھلتی جاتی ہے
اِس کی سحر کے پیچھے پیچھے
صبحِ شہادت آرہی ہے
جیسے جیسے رات ۔۔۔
کہتی ہیں بچوں سے مائیں
آئو تمہیں ہم آج سمجھائیں
وقت یہی قربانی کا ہے
دیں پہ مصیبت آرہی ہے
جیسے جیسے رات ۔۔۔
وہ جو شبیہہ پیغمبر ہے
زد پہ سناں کی اُس کا جگر ہے
موت اُسی کی خاطر نیزہ
مقتل میں لہرا رہی ہے
جیسے جیسے رات ۔۔۔
جھولا جھولنے والا بچہ
لوری سُن کر بھی نہ سویا
بچے کو آدابِ شہادت
لوری خود سمجھا رہی ہے
جیسے جیسے رات ۔۔۔
ساتویں سے اس بن میں اک ماں
بال کھولے باحالِ پریشاں
جھاڑتی ہے مقتل کی زمیں کو
رُوتی ہے تھرّارہی ہے
جیسے جیسے رات ۔۔۔
رکھ دو قلم ریحان و سرور
درد بھرا ہے صبحُ کا منظر
لہجہئِ اکبر سے جو اُبھری
صوتِ اذان وہ آرہی ہے
جیسے جیسے رات ۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.