Zehra ke dularon pa
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shame Ghariban recited by Ali Zia Rizvi
زہرا کے دلاروں پہ عجب ظلم و جفا ہے
طوفان غم و درد ہے اور آل عبا ہے
اے قایم و قیوم تو سب دیکھ رہا ہے
پیاسے ہیں گلستان پیمبر کے گل تر
لب خشک ہیں بچوں کے ہر اک فرد ہے مضطر
گرمی سے غریبوں کا برا حال ہوا ہے
تو دیکھ رہا ہے
---زہرا کے دلاروں
کہتے ہیں جسے لوگ محمد کا نواسہ
آفسوس ہے اس بات کا وہ شخص ہے پیاسہ
بند اسکے نواسوں کے لئے آب و غزا ہے
تو دیکھ رہا ہے
---زہرا کے دلاروں
مارے گئے جب نہر پر عباس دلاور
زینب کو یقیں ہوگیا اب جاے گی چادر
جو آسرا مظلوموں کا تھا ٹوٹ چکا ہے
تو دیکھ رہا ہے
---زہرا کے دلاروں
اک باپ پہ کیسی یہ قیامت کی گھڑی ہے
قدموں میں غم و درد کی زنجیر پڑی ہے
فرزند جواں سامنے دم توڑ رہا ہے
تو دیکھ رہا ہے
---زہرا کے دلاروں
دے کس کو صدا کوئی نہیں سب گےء مارے
عباس کے شانے کٹے دریا کے کنارے
اک دن میں چمن فاطمہ زہرا کا لٹا ہے
تو دیکھ رہا ہے
---زہرا کے دلاروں
آغوش سے مادر کے جسے لاےء تھے شبیر
پانی کے عوض اعدا نے کی انکی یہ توقیر
بے شیر کے گردن میں لگا تیر قضاء ہے
تو دیکھ رہا ہے
---زہرا کے دلاروں
مہمان تیرے بھیڑ تو بہتر ہے سمجھتا
معمور کا دل اس لئے خوں روتا ہے مولا
شبیر کا سر شمر لعیں کاٹ رہا ہے
تو دیکھ رہا ہے
---زہرا کے دلاروں
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.