Ye dashte wehshat
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shame Ghariban recited by Mirza Sikander Ali
یہ دشتِ وحشت یہ شامِ غربت
یہ کون دریا سے آ رہا ہے
ہے علی کی بیٹی ہے تیغ بر کر
جلال چہرے پہ چھا رہا ہے
یہ دشتِ وحشت۔۔۔
جلائے پرائے اک طرف ہیں خیمیں
ہے اک طرف بے کسوں کی زاری
ہیں گودیوں میں بلکتے بچے
سماں وہ اُن کو ڈرا رہا ہے
یہ دشتِ وحشت۔۔۔
بہت سے صدمے اُٹھا چکے ہیں
نعیف اور زار ہو گئے ہیں
ہیں سامنے وارثوں کے لاشے
یہ غم بہت ان کو کھا رہا ہے
یہ دشتِ وحشت۔۔۔
اُس آنے والے پہ سب ہیں حیراں
کے اُس کے آنے کا کیا ہے مقصد
یہ اور کیا لُوٹ لے گا آکر
یہاں بھلا کیا دھرا رہاہے
یہ دشتِ وحشت۔۔۔
ادھر یہ سب بیٹھے سوچتے ہیں
اُدھر وہ بڑھتا ہے بڑھنے والا
سوار اسکے سفید پہ ہے
نقاب سے رُخ چھُپا رہا ہے
یہ دشتِ وحشت۔۔۔
علی کی بیٹی یہ پوچھتی ہے
اُس آنے والے کی ہے غرض کیا
مگر وہ خاموش ہو کے
رہوار اپنا آگے بڑھا رہا ہے
یہ دشتِ وحشت۔۔۔
غضب کے عالم میں کہہ رہی ہے
کے بڑھنے والے ذرا سنبھل جا
میں بنتِ خلاشکن ہوں تُو سُن لے
مجھے بھلا تُو ڈرا رہا ہے
یہ دشتِ وحشت۔۔۔
وہ آنے والا نقاب اُلٹ کر
یہ کہہ رہا ہے کے دیکھ زینب
یہ باپ تیرا ہے میری بیٹی
تیری حفاظت کو آ رہا ہے
یہ دشتِ وحشت۔۔۔
یہ سُن کے زینب تڑپ گئی ہے
یہ کہہ رہی ہے کہ ہائے بابا
حسین دُنیا سے جا چُکے ہیں
ہمارے نزدیک کیا رہا ہے
یہ دشتِ وحشت۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.