Abid Kay Samnay
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Sajjad (a.s) recited by Syed Muhammad Shah
ہر اک قدم پہ مقتل بازار بن گیا تھا عابد کے سامنے
زہرا کی بیٹیوں کو لوگوں نے اتنا مارا عابد کے سامنے
زہرا کی لاش جیسے حیدر کے سامنے تھی
چہرے پہ نیل تھا اور پہلو تھا جیسے زخمی
زندان میں بہن کا زخمی تھا ایسے لاشہ عابد کے سامنے
ہر بی بی سوچتی تھی بالوں سے منہ چھپائے
بازار میں ہمارا غمخوار مر نہ جائے
ہر بی بی پر تھا مشکل بازار سے گُزرنا عابد کے سامنے
ہنس ہنس کے قیدیوں کو بازار میں گرایا
اہلِ حرم کو ایسے ہائے لوگوں نے ستایا
رسی کسی نے کھینچی پتھر کسی نے مارا عابد کے سامنے
لینا ہے جس نے کوئی بدلہ علی سے آئے
یہ ہے علی کی بیٹی آ کر اسے ستائے
زینب کی سمت فاسق کرنے لگا اشارہ عابد کے سامنے
قاسم کے سر سے رو کر دلہن یہ کہہ رہی تھی
رسی میں وہ بندھے ہیں جن ہاتھوں میں تھی مہندی
عابد تڑپتے تھے جب کرتی تھی بین کبری عابد کے سامنے
بے حال تھی سکینہ کھا کر طمانچے رُخ پر
اور سانس رُک رہا تھا ایسے رَسن سے گُھٹ کر
کہ جیسے چل رہا ہو زندہ کوئی جنازہ عابد کے سامنے
رکتا نہ تھا کہیں گر وقتِ نماز لشکر
سر مار کر وہ اپنا روتا تھا ہتھکڑی پر
مشکل سے چلتے چلتے کرتے تھے قیدی سجدہ عابد کے سامنے
لوگوں سے بیبیوں کو ایسے بچا رہی تھی
ہر اک کے آگے آ کر پتھر وہ کھا رہی تھی
زندان تک اسد تھی زخموں سے چور فضہ عابد کے سامنے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.