Wo qaime jal rahe
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shame Ghariban recited by Nadeem Sarwar
یزید بولا بڑی فوج میرے ہاتھ میں ہے
حسین بولے نتیجہ خدا کے ہاتھ میں ہے
یزید بولا جو بیعت کرو خزانہ ہے
حسین بولے کہ نانا کو منہ دکھانا ہے
یزید بولا میں ظالم ہوں ظلم کرتا ہوں
حسین بولے میں سید ہوں صبر کرتا ہوں
وہ خیمے جل رہے ہیں یہ شام غریباں ہے
یہ بن میں بکھری لاشیں اب شام کا زنداں ہے
وہ خیمے جل رہے ہیں یہ شام غریباں ہے
اک دو پہر میں اجڑا گھر اک فاطمہ کا
یہ جس جگہ پہ خیمے اب اس جگہ دھواں ہے
وہ خیمے جل رہے ہیں۔۔۔
اکبر نے جب اذاں دی یہ بیکسی کہاں تھی
وہ صبح کی اذاں تھی یہ شام کی اذاں ہے
وہ خیمے جل رہے ہیں۔۔۔
بے سر کوی نازی بے دست کوئی غازی
سینے میں اک جواں کے ٹوٹی ہوی سناں
وہ خیمے جل رہے ہیں۔۔۔
پہرہ بدل گیا ہے زینب یہ کربلا ہے
زینب کے ہاتھ میں اب عباس کا نشاں ہے
وہ خیمے جل رہے ہیں۔۔۔
کیا ڈھونڈتی ہے سینہ آ پاس آ سکینہ
سینے پہ سونے والی بابا تیرا یہاں ہے
وہ خیمے جل رہے ہیں۔۔۔
ریحان ہو کہ سرور ہے سیدہ کے نوکر
اک نوحہ گو ہے ان کا اک نوحہ خواں ہے
وہ خیمے جل رہے ہیں۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.