Utho mere baba
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shame Ghariban recited by Afzal Mirza
اٹھو میرے بابا زمیں جل رہی ہے
تمہیں آج کیسے یہ نیند آگیء ہے
جو خیموں میں برپا قیامت ہوی ہے
بہت سخت مشکل میں میری پھپھی ہے
سکینہ تڑپ کر صدا دے رہی ہے
اٹھو میرے بابا۔۔۔
یہ مقتل میں رو رو پکاری سکینہ
لیےء دل میں اک زخم کاری سکینہ
ہے کرتی یہی آہ و زاری سکینہ
اذیت بہت ہے بہت تشنگی ہے
اٹھو میرے بابا۔۔۔
ستمگر نے دروں سے زخمی کیا ہے
طمانچوں سے رخسار نیلا پڑا ہے
لہو میرے کانوں سے بھی بہہ رہا ہے
میری زندگی خوں میں ڈوبی ہوی ہے
اٹھو میرے بابا۔۔۔
بہت منتظر ہے مدینے میں صغریٰ
میرا بھای اکبر بنے گا جو دولہا
تو لونگی بلاییں اتاروں گی صدقہ
ادھر دل میں اکبر کے برچی لگی ہے
نہ شکوہ چچا سے نہ شکوہ ہے رب سے
میں پیاسی ہوں بابا کیء روز و شب سے
مزہ کیا ہے پانی کا بھولی ہوں کب سے
عجب بد نصیبی عجب تشنگی ہے
اٹھو میرے بابا۔۔۔
بپا ہو گیا ہے قیامت کا منظر
بڑا لوٹنے کے ارادے سے لشکر
جلایینگے خیموں کو لوٹے گا چادر
سکینہ اس آفت سے گھبرا رہی ہے
اٹھو میرے بابا۔۔۔
عدو کی نظر سے بچائے گی بہنا
لگاے گی کاجل اتارے گی صدقہ
یہ کیا ہوگیا خوں میں ڈوبا ہے کرتہ
تیری راہ خیمے میں ماں دیکھتی ہے
اٹھو میرے بابا۔۔۔
ہے بدلی ہوی آج چہرے کی رنگت
نہیں دیکھی جاتی ہے دکھیا کی حالت
کہاں پر ہے بے شیر اصغر کی تربت
ہر ایک سمت جا جا کے ماں دیکھتی ہے
اٹھو میرے بابا۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.