Utho baba
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shame Ghariban recited by Shahid Baltistani
ہاے وہ شام غریباں وہ اندھیرا صحرا
جلتے خیموں سے چلی رن کی طرف اک دکھیا
آگ دامن میں تھی کانوں سے لہو جاری تھا
باپ کی لاش پہ آ کر یہ سکینہ نے کہا
کب سے آواز تمہیں دیتی ہوں پیارے بابا
مجھ سے پہلے بھلا تم سو گےء کیسے بابا
اٹھو بابا اٹھو بابا اٹھو بابا
شام غریباں میں تھا سکینہ کا نوحہ
اٹھو بابا اٹھو بابا اٹھو بابا اٹھو بابا
میں کروں گی نہ طمانچوں کی کبھی تم سے شکایت
کیا نہیں آپ کو بابا اپنی بیٹی سے محبت
دیکھو پھپھی سے آ گےء ملنے کو دادا
اٹھو بابا۔۔۔
تم کو زحمت نہ ہو پتھر میں ہٹا دیتی ہوں بابا
زخمی ہاتھوں سے مصلہ میں بنا دیتی ہوں بابا
ہو گیا بن میں وقت نماز مغرب کا
اٹھو بابا۔۔۔
زخم دکھتے ہیں بہت میرے سنبھالو مجھے بابا
اپنی آغوش میں جلدی سے چھپالو مجھے بابا
شمر کے ڈر سے دم نہ نکل جاے میرا
اٹھو بابا۔۔۔
خلد سے آے تھے جوڑے یہ کبھی ماں سے سنا تھا
چادریں آج منگا دو بابا احسان یہ ہو گا
چھن گیا بن میں آپ کی بہنوں کا پردہ
اٹھو بابا۔۔۔
تم سے بچھڑی تھی میں کچھ دیر تو ٹوٹی یہ قیامت
جانے کیا ہو گیء ہو گی انکی چھ ماہ میں حالت
پاس تمہارے بن کے میں آی ہوں صغرا
اٹھو بابا۔۔۔
شمر نے مار کے درے اسکو جس وقت اٹھایا
پیچھے مڑ مڑ کے تکلم یہی کہتی تھی سکینہ
شام چلی ہوں اب نہ بچونگی میں زندہ
اٹھو بابا۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.