Suraj ne jab
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shame Ghariban recited by Tableegh e Imamia
سورج نے جب سحر کا سفر کر لیا تمام
خیموں کی سمت بڑھنے لگا پھر غرورِ شام
ظلمت نے روشنی سے لیا کیسا انتقام
جلنے لگے رسول کی اولاد کے خیام
شعلہ فشانیوں کا نتیجہ عیاں ہوا
ہر عرشِ بریں کی سمت روانہ دھواں ہوا
سورج نے جب سحر۔۔۔
اُمت نبی کی لُوٹ رہی تھی نبی کا گھر
تاریخ لکھ رہی تھی یہ روداد خیر و شر
دامن تھا کربلا کا شہیدوں کے خوں سے تر
بکھرا پڑا تھا خاک پہ قرآں اِدھر اُدھر
کتنے مچل رہے تھے فضائوں کی گود میں
بچے دِہل کے چُھپ گئے مائوں کی گود میں
سورج نے جب سحر۔۔۔
ایسے میں اک رسول کی بے مثل یادگار
خیموں کی آگ جس کی غریبی سے شرمسار
عابد کی جستجو میں بہتر کی سوگوار
جاتی تھی خیمہ گاہ میں گھبرا کے بار بار
پایا جو غش میں حُجتِ پروردگار کو
زینب اُٹھا کے لائی شریعت کے بار کو
سورج نے جب سحر۔۔۔
شانہ ہلا کے سیدِ سجاد سے کہا
بیٹا اُٹھو کے سر سے میرے چھِن چُکی ردا
باجے بجا رہے ہیں اُدھر دُشمنِ خُدا
نیزے پہ آ چُکا ہے سرِ شاہِ کربلا
ڈھاہے ہوئے یہ رات قیامت کا روپ ہے
اب اس کے بعد صبح و اسیری کی دھوپ ہے
سورج نے جب سحر۔۔۔
کتنا کٹھن تھا ثانیِ زہرا کا امتحاں
بھائی کا غم رسیدہ لیئے گھر کی پاسباں
خیمے تو جل چُکے تھے بسر ہوتی شب کہاں
صحرا کی خاک زیرِ قدم سر پہ آسماں
عباس کے عمل کو فریضہ بنا لیا
زینب نے اب حُسین کا پرچم اُٹھا لیا
سورج نے جب سحر۔۔۔
مقتل سے سوئے شام ہوا قافلہ رواں
اونٹوں پہ اہلیبیت تھے سجاد سارباں
کانٹوں پہ چل رہا تھا شریعت کا پاسباں
گردن کا طوق پائوں کی زنجیر نوحہ خواں
اللہ کی رضا کو گلے سے لگائے تھا
بیمار بار عالمِ امکاں اُٹھائے تھا
سورج نے جب سحر۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.