Subhe ashura hui
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shame Ghariban recited by Nasir Asghar Party
جب نہ اعدا سے کسی طرح سفای ٹہری
صبحِ عاشور محرم کو لڑائی ٹہری
پوچھا زینب نے کہ کیا اے میرے بھائی ٹہری
شہ نے فرمایا بہن تم سے جدائی ٹہری
آج پیاروں سے ملاقات غنیمت جانو
اے بہن آج کی یہ رات غنیمت جانو
آگیء شام غریباں گھر جلانے کے لئے
صبحِ عاشورا ہوی لاشیں اٹھانے کے لئے
جب سے زینب نے سنا ہے آ گےء بابا میرے
ڈھونڈتی پھرتی ہے چادر سر چھپانے کے لئے
صبحِ عاشورا ہوی۔۔۔
بازوے غازی اگر کافی نہیں تجھکو فرات
کیا رقیہ آے اب بازو کٹانے کے لئے
صبحِ عاشورا ہوی۔۔۔
خونِ اصغر سے اگر بجھتی نہیں تیروں کی پیاس
خون حاضر ہے سکینہ کا بجھانے کے لئے
صبحِ عاشورا ہوی۔۔۔
سر سے چادر کا اتارنا موت زینب کی ہے پر
اب بھی زندہ ہے تو عابد کو بچانے کے لیےء
صبحِ عاشورا ہوی۔۔۔
کربلا کے بعد اصغر کے تبسم کے سوا
کیا سبب بچتا ہے اکبر مسکرانے کے لئے
صبحِ عاشورا ہوی۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.