Samajh Kay Zehra Sataya Gaya Sakina Ko
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sakina (s.a) recited by Syed Muhammad Shah
سمجھ کے زہرا ستایا گیا سکینہ کو
قدم قدم پہ رلایا گیا سکینہ کو
طلب کیا کسی ظالم نے کنیزی میں
چھپالیا اُسے زینب نے اپنی گودی میں
نہ پوچھو کیسے بچایا گیا سکینہ کو
وہ پشت ِ ناقہ پہ تنہا ہو تیز رفتاری
سنبھلتی کیسے سفر میں حسین کی پیاری
گری نہیں ہے گرایا گیا سکینہ کو
وہ اپنا حالِ یتیمی سنانے آئی تھی
پدر کی لاش سے پتھر ہٹانے آئی تھی
لگا کے دُرے ہٹایا گیا سکینہ کو
رباب بین یہ تربت پہ آ کے کرتی تھی
غریب ہو گئی کتنی حسین کی بیٹی
گلی گلی میں پھرایا گیا سکینہ کو
تماشہ گیر نے انعام کیسا ہے مانگا
تڑپ کے رہ گئی دربارِ شام میں فضہؑ
کنیز کہہ کے بلایا گیا سکینہ کو
سرِ حسین کو تکتے تھے عابدِ مضطر
تڑپنے لگتی تھی غازی کی لاش دریا پر
تماچا جب بھی لگایا گیا سکینہ کو
ستمگروں کی روش بن گئی تھی مقتل سے
کہیں بھی بچھڑی سفر میں تو پاس عابدؑ کے
پکڑ کے بالوں سے لایا گیا سکینہ کو
حجاب ِ غیب کا مالک بھی درد رکھتا ہے
اٹھائے مشک تکلم تلاش کرتا ہے
کہاں پہ پانی پلایا گیا سکینہ کو
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.