Sogaye maqtal mein
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shame Ghariban recited by Akber Naqvi
سو گےء مقتل میں سرور حشر کا ہنگام ہے
اہلبیت مصطفیٰ پر بیکسی کی شام ہے
شام وہ شام غریباں آگیء سو غم لیےء
جل چکے خیمے کہیں پر اور کہیں کہرام ہے
سو گےء مقتل میں۔۔۔
ہے طمانچے ایک یتیمہ پر خدایا اس قدر
امت اسلام کا کیا خوب یہ انعام ہے
سو گےء مقتل میں۔۔۔
باپ کا سینہ ملے گا اب کہاں بی بی تمہیں
خاک کے بستر پہ سونا اب تمہارا کام ہے
سو گےء مقتل میں۔۔۔
کہتی ہے بانو سکینہ سے سنو بی بی زرا
اب یہاں سے گھر ہمارا دیکھو بس دو گام ہے
سو گےء مقتل میں۔۔۔
ہے نماز و روز و حج صرف مجلس شاہ کی
کس جہاں کے واسطے ہم پر لگا الزام ہے
سو گےء مقتل میں۔۔۔
روز و شب مصروف رہتے ہے پرے ماتم صدا
غم میں رونا شاہ دیں کے کے بس ہمارا کام ہے
سو گےء مقتل میں۔۔۔
جب سے دیکھی نوجواں کے دل میں برچھی کی انی
ام لیلیٰ کی نظر میں آج دن بھی شام ہے
سو گےء مقتل میں۔۔۔
غم میں جینا غم میں مرنا ہے مقدر یا حسین
یا ہماری زندگی سرور تمہارے نام ہے
سو گےء مقتل میں۔۔۔
آپ کے نوحوں سے مولا صابر و اقبال ہے
نوحہ خوانی نوحہ گوی دونوں کا اک کام ہے
سو گےء مقتل میں۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.