So jao sakina
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shame Ghariban recited by Safdar Abbas
بیٹھے تھے جلے خیموں میں سادات بے اماں
سہمی ہوی تھی بی بیاںبچے تھے حراساں
زینب نے سن کے دختر شبیر کی فغاں
بچی کے اشک پونچھ کے دی یوں تسلیاں
بابا کے بدلے میں تجھے سینے پہ سلاؤں
سو جاؤ سکینہ
تم بند کرو آنکھیں میں لوری سناؤں
سو جاؤ سکینہ
بابا تو نہیں میں تمہیں پہلو میں سلاؤں
سو جاؤ سکینہ
آنکھیں تو کرو بند تو پھر خواب دکھے گا
آ جاےنگے پھر خواب میں ملنے تمہیں بابا
وہ آ نہیں سکتے یہاں یہ کیسے بتاؤں
سو جاؤ سکینہ
تم بند کرو آنکھیں۔۔۔
مانا کے بہت درد ہے زخموں میں تمہارے
ظالم نے گوہر چھین کے کانوں سے اتارے
میں اشکوں کا مرحم تیرے زخموں پہ لگاؤں
سو جاؤ سکینہ
تم بند کرو آنکھیں۔۔۔
شہزادی یونہی اب تمہیں کرنا ہے گزارا
خیموں کی جلی خاک ہی بستر ہے تمہارا
ہے گرم زمیں اس لےء زانوں پہ لٹاوں
سو جاؤ سکینہ
تم بند کرو آنکھیں۔۔۔
بابا کے بنا اب تمہیں جینا ہے میری جان
غم باپ کی فرقت کا بھی سہنا ہے میری جان
خود اپنی یتیمی کا میں احوال سناؤں
سو جاؤ سکینہ
تم بند کرو آنکھیں۔۔۔
لاے گی ابھی زوجہء حر کوزوں میں پانی
مٹ جاے گی کچھ دیر میں تشنہ دہانی
پھر وقت تجھے نیند کا احساس دلاؤں
سو جاؤ سکینہ
تم بند کرو آنکھیں۔۔۔
زینب کا بیاں سنتے ہی اے صفدر و مظہر
کچھ دیر کو نیند آ گیء بچی کو زمیں پر
یہ شہ نے کہا خواب میں سینے پہ سلاؤں
سو جاؤ سکینہ
تم بند کرو آنکھیں۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.