Sher e fizza
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shame Ghariban recited by Mesum Abbas
یا ایھل اسد چلے آؤ
شیر فضہ شیر فضہ
جس گھڑی شام غریباں آی
فضہ میدان میں کھڑی چلای
ابو حارث ہو کہاں آجاؤ
بے سہاروں کی مدد فرماؤ
رن میں ہے لاشے حسین ابنِ علی
کرنے آجاے نہ پامال شقی
اپنے وعدے کو نبھاؤ آؤ
پہرہ شبیر کے لاشے پہ کرو
چلے آؤ شیر فضہ۔۔۔
اک صدا تم کو سفینہ نے جو دی
تم نے آ کر وہاں امداد ہے کی
وہ صحابی رسول دو سرا
اور میں تو ہوں کنیز زہرا
میرے رتبہ ہے جدا
دے رہی ہوں میں صدا
آی شبیر پہ غربت کی گھڑی
باقی بھای ہے نہ بیٹا کوئی
اپنے وعدے کو نبھاؤ آؤ
پہرہ شبیر کے لاشے پہ کرو
چلے آؤ شیر فضہ۔۔۔
معجزہ رب نے فضہ کو دیا
عہد جو تین دعاؤں کا کیا
واسطہ دیکے اسی وعدے کا
مانگی رب سے یہی فضہ نے دعا
ابھی رہتا ابو حارث ہے جہاں
میری آواز یہ پہنچا دے وہاں
اپنے وعدے کو نبھاؤ آؤ
پہرہ شبیر کے لاشے پہ کرو
چلے آؤ شیر فضہ۔۔۔
واسطہ تم کو رسولِ حق کا
واسطہ تم کو علی کا ہے دیا
وہ علی شیر خدا
جس نے وعدہ تھا کیا
اسی وعدے کی قسم
جلد آؤ ضیغم
دے رہی ہوں جو تمہیں میں یہ صدا
حکم مجھکو ہے یہ زینب نے دیا
اپنے وعدے کو نبھاؤ آؤ
پہرہ شبیر کے لاشے پہ کرو
چلے آؤ شیر فضہ۔۔۔
لگا اکبر کے ہے نیزہ ہاے ہاے
تیر اصغر نے ہے کھایا ہاے ہاے
ٹکڑے قاسم کا سراپا ہاے ہاے
مارا عباس کو پیاسا ہاے ہاے
ہو گےء قتل شہنشاہِ امم
ہے پریشان بہت اہلِ حرم
اپنے وعدے کو نبھاؤ آؤ
پہرہ شبیر کے لاشے پہ کرو
چلے آؤ شیر فضہ۔۔۔
کیا ستم کم تھا کہ سب قتل ہوے
پر ستمگار ستم کرتے رہے
کاٹے خنجر سے ہے پیاسوں کے گلے
اب یہ پامال کریں گے لاشے
حد ستم کی یہ رکے گی نہ کبھی
ہو گا پردہ ابھی تو پامال ابھی
اپنے وعدے کو نبھاؤ آؤ
پہرہ شبیر کے لاشے پہ کرو
چلے آؤ شیر فضہ۔۔۔
واقعہ میثم و سلمان یہ راوی نے لکھا
آ گیا شیر وہ اور لاش پہ پہرہ بھی دیا
پہرہ دیتا رہا آنکھوں سے رہا خون رواں
جب تلک دفن کو آے نہیں سجاد وہاں
کربلا جاتے ہیں زایر جو مقام فضہ
اب بھی محسوس وہاں ہوتی ہیں فضہ کی صدا
اپنے وعدے کو نبھاؤ آؤ
پہرہ شبیر کے لاشے پہ کرو
چلے آؤ شیر فضہ۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.