Shaam hai gharibon
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shame Ghariban recited by Anj. Masoomeen
شام ہے غریبوں کی درد ناک منظر ہے
بے حواس میدان میں عطرت پیمبر ہے
درد ناک منظر ہے
تیرگی ہے دہشت ہے ہاے کیا قیامت ہے
ہے حرم کی نگرانی اور علی کی دختر ہے
درد ناک منظر ہے
شام ہے غریبوں کی۔۔۔
چھا چکی ہے تاریکی پھر بھی ظلم ہے جاری
شمر کے طمانچے ہے شاہ دیں کی دختر ہے
درد ناک منظر ہے
شام ہے غریبوں کی۔۔۔
ایک یتیم بچی کو ہاے یوں ملا پرسہ
کان ہوگےء زخمی پشت خوں میں تر ہے
درد ناک منظر ہے
شام ہے غریبوں کی۔۔۔
ہاے کیا بھرا گھر تھا اور اب ہے سناٹا
صبح کا تھا وہ منظر شام کا یہ منظر ہے
درد ناک منظر ہے
شام ہے غریبوں کی۔۔۔
جل چکے ہے سب خیمے بی بیاں ہوی بے آس
اب نہ کوئی وارث ہے اور نہ سر پہ چادر ہے
درد ناک منظر ہے
شام ہے غریبوں کی۔۔۔
کیا لکھے بھلا کوئی حال عابد مضطر
آسمان سایہ ہے اور زمین بستر ہے
درد ناک منظر ہے
شام ہے غریبوں کی۔۔۔
فاطمہ کے گلشن کو کس طرح کیا تاراج
اب نہ کوئی اکبر ہے اور نہ کوئی اصغر ہے
درد ناک منظر ہے
شام ہے غریبوں کی۔۔۔
سر ہے سجدے میں ساجد بہر شکر بیٹے کا
سامنے ہی نیزے پر باپ کا کٹا سر ہے
درد ناک منظر ہے
شام ہے غریبوں کی۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.