Shaam e ghariban
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shame Ghariban recited by Ali Yazdan
یا مصطفیٰ یا علی یا زہرا یا زہرا
کیا آی قیامت
یہ بیکسوں کی شام اسیروں کی شام ہے
یہ تشنہ لب غریب شہیدوں کی شام ہے
سورج گواہ ہے کہ یتیموں کی شام ہے
یہ شام غریباں ہے یہ شام غریباں ہے
یہ شام غریباں ہے غریبوں کی شام ہے
پردیس میں غریب مسافر کی شام ہے
اے ذکر کبریا تیرے ذاکر کی شام ہے
دین محمدی تیرے ناصر کی شام ہے
یہ شام غریباں ہے۔۔۔
تپتی ہوی زمیں پہ ہے تشنہ لبوں کی شام
مظلوموں کی یہ شام ہے یہ بیکسوں کی شام
یہ شام ہے اسیروں کی یہ قیدیوں کی شام
یہ شام غریباں ہے۔۔۔
اپنے گھروں سے دور ہے یہ غمزدوں کے شام
جو ہے نگاہ آل میں ان آنسوؤں کی شام
ڈوبے جو اپنے خون میں ان گیسوؤں کی شام
یہ شام غریباں ہے۔۔۔
بے وارثوں کی شام ہے شام عالم ہے یہ
بے حال جس میں بچے ہیں وہ شام غم ہے یہ
شام مسافراں ہے یہ شام حرم ہے یہ
یہ شام غریباں ہے۔۔۔
ظلم و ستم کی دشت میں یاں انتہا ہے یہ
تشنہ لبوں کے واسطے تیغ جفا ہے یہ
سیدانیوں کے واسطے شام قضاء ہے یہ
یہ شام غریباں ہے۔۔۔
کہتے ہیں جس کو شام غریباں وہ شام ہے
آی جو بعد شاہ شہیداں وہ شام ہے
خوں جس میں رویا آنکھوں سے قرآں وہ شام ہے
یہ شام غریباں ہے۔۔۔
بولی نہ جس کو آل پیمبر وہ شام ہے
ویراں ہوا ہے جس میں بھرا گھر وہ شام ہے
جس میں لٹی ہے آل کی چادر وہ شام ہے
یہ شام غریباں ہے۔۔۔
یہ بیکسوں شہیدوں کے لاشوں کی شام ہے
جسم شاہ غریباں کے زخموں کی شام ہے
شہداے حق کے خون کے خطروں کی شام ہے
یہ شام غریباں ہے۔۔۔
سادات کے لٹے ہوے کنبے کی شام ہے
بے شیر کے جلے ہوے جھولے کی شام ہے
نوشاہ کے کٹے ہوے سہرے کی شام ہے
یہ شام غریباں ہے۔۔۔
بنت نبی کے ہاے لٹے گھر کی شام ہے
غربت کی شام ہے شہ بے بر کی شام ہے
بکھرے ہوے نبی کے گل تر کی شام ہے
یہ شام غریباں ہے۔۔۔
دایم ہے یہ اسیر یہ آل عبا کی شام
یزداں ہے یہ سکینہ پہ جور و جفا کی شام
سورج غروب ہو گیا آی قضاء کی شام
یہ شام غریباں ہے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.