Shaam e ghariban
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shame Ghariban recited by Shadman Raza
کونین کی شہزادیاں ہے
بے سر و سامان
یہ شام غریباں ہے
ارے شام غریباں
کونین کی شہزادیاں ہے
ہے خون میں ڈوبے ہوے سہہ روز کے پیاسے
میداں میں ہر سمت ہے بکھرے ہوے لاشے
منظر یہ قیامت کے صدا دیتے ہے روکے
یہ شام غریباں ہے۔۔۔
کونین کی شہزادیاں ہے۔۔۔
افسوس کے مارا گیا اک رات کا دولہا
تر خون میں سہرا ہوا روندھا گیا لاشہ
کل شادی ہوی جسکی وہ شہزادی ہے بیوہ
یہ شام غریباں ہے۔۔۔
کونین کی شہزادیاں ہے۔۔۔
وہ ماں کے جواں شیر سا بیٹا تھا جس کا
دل تھامے ہوے کرتی ہے رو رو کے یہ نوحہ
کہتی ہے تڑپ کر کہاں ڈھونڈوں تجھے بیٹا
یہ شام غریباں ہے۔۔۔
کونین کی شہزادیاں ہے۔۔۔
کل گود میں جس ماں کے تھے اک چاند سا بیٹا
روتی ہے عجب کرب سے وہ غمزدہ دکھیا
اجڑی ہوی گودی میں ہے اجڑا ہوا جھولا
یہ شام غریباں ہے۔۔۔
کونین کی شہزادیاں ہے۔۔۔
شبیر سلاتے تھے جسے سینے پہ اپنے
جس بچی کو پالا تھا بہت پیار سے شہ نے
اب دشت میں کھاتی ہے وہی بچی طمانچے
یہ شام غریباں ہے۔۔۔
کونین کی شہزادیاں ہے۔۔۔
جو بنت علی خواہر عباس جری ہے
جو چادر تطہیر کے ساے میں پلی ہے
بے مقنہ و چادر سر میداں میں کھڑی ہے
یہ شام غریباں ہے۔۔۔
کونین کی شہزادیاں ہے۔۔۔
مظلوموں یتیموں کا ہے جو قافلہ سالار
وہ تشنہ دہن جو ہے کیء روز سے بیمار
پہنایا گیا ہاے اسے طوقِ گراں بار
یہ شام غریباں ہے۔۔۔
کونین کی شہزادیاں ہے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.