Sehra ke andhere
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shame Ghariban recited by Nadeem Sarwar
صحرا کے اندھیرے میں اٹھا شور بکا کا
بابا بابا بابا بابا
کس جا پہ ہو آواز مجھے دیجیےء خدارا
بابا بابا بابا بابا
خیمہ جلا گھر لٹ گیا
بھیا میرا قیدی بنا
پھرتی ہوں بھٹکتی ہوئی ملتا نہیں لاشہ
بابا بابا بابا بابا
صحرا کے اندھیرے۔۔۔
چادر چھنی درے لگے
بلوے میں ہے سب سر کھلے
کانوں سے میرے چھینے گوہر مارا طمانچہ
بابا بابا بابا بابا
صحرا کے اندھیرے۔۔۔
پھیلا ہے مقتل میں دھواں
پر حول ہے یاں کا سماں
ٹکراتی ہوں لاشوں سے دکھای نہیں دیتا
بابا بابا بابا بابا
صحرا کے اندھیرے۔۔۔
اک لاش نے آواز دی
پھٹ جاتی ہے چھاتی میری
آواز سر دشت جو تو دیتی ہے دکھیا
بابا بابا بابا بابا
صحرا کے اندھیرے۔۔۔
سینے سے آ لگ جا میرے
بے سر ہے ہم رن میں پڑے
دریا پہ نہ جانا کرتی ہوئی نالہ
بابا بابا بابا بابا
صحرا کے اندھیرے۔۔۔
کیوں آ گیء تو خیمے سے
عمو تڑپتے ہیں تیرے
سن کر تیری فریاد کو اس دشت میں بیٹا
بابا بابا بابا بابا
صحرا کے اندھیرے۔۔۔
ناگاہ مقتل کی فضا
لای یہ زینب کی صدا
کیا آی ہے لاشے پہ دکھانے جلا کرتہ
بھیا بھیا بھیا بھیا
صحرا کے اندھیرے۔۔۔
مانجای کی آواز پر
دی شہ کے لاشے نے خبر
آہستہ بہن زور سے آواز نہ دینا
بھیا بھیا بھیا بھیا
صحرا کے اندھیرے۔۔۔
کیوں کر انیس غم لکھے
مقتل میں ہے جو واقعے
زنداں کی فضاؤں میں ابھی تک ہے یہ نوحہ
بابا بابا بابا بابا
صحرا کے اندھیرے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.