Sadaat hai pardes
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shame Ghariban recited by Shahid Baltistani
سادات ہے پردیس ہے اور شام غریباں
کیا وقت ہے غازی نہیں زینب ہے نگہباں
اے رات اندھیروں کو زرا اور بڑھا دے
مقتل کی ہوا جلتے چراغوں کو بجھا دے
دیکھے نہ علمدار بہن کو سر عریاں
سادات ہے پردیس ہے۔۔۔
بی بی کوی جھولے کی جلی راخ اٹھا کر
کہتی ہے اگر تو نہیں آیا علی اصغر
قد رن میں چلی آے گی بے شیر تیری ماں
سادات ہے پردیس ہے۔۔۔
تو ہی نہ رہا جی کے کروں کیا میرے بچے
قد اپنے ہی ہاتھوں سے میری قبر بنادے
لیلیٰ پی یہ ہوگا علی اکبر تیرا احساں
سادات ہے پردیس ہے۔۔۔
کہتے ہیں یہ جلتے ہوئے خیموں میں مصلے
سجاد تہجد تو زرا چین سے پڑھلے
افسوس یہ مہلت بھی نہیں دیتے مسلماں
سادات ہے پردیس ہے۔۔۔
دریا پہ تڑپتا ہے علمدار کا لاشہ
مقتل میں عجب حال سے آتی ہے سکینہ
خیموں کا دھواں آنکھوں سے جلتا ہوا دامان
سادات ہے پردیس ہے۔۔۔
وہ وقت تکلم تھا عجب بنت علی پر
کہنے لگے مولا جو نقاب اپنی اٹھا کر
میں باپ ہوں زینب مجھے پہچان میری جاں
سادات ہے پردیس ہے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.