Sab jal chuke qayam
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shame Ghariban recited by Ali Zia Rizvi
سب جل چکے خیام
بکھری ہوئی ہے رات سسکتا ہے بن تمام
---سب جل چکے
سورج کے سر سے کھینچالی شب نے ردائے شام
---سب جل چکے
خیموں کو اپنے لوٹ چلی ظلم کی سپاہ
خوں سے زمیں سرخ ہوئی آگ سے سیاہ
اٹھتے ہوئے دھوئیں سے فلک ہے سیاہ فام
---سب جل چکے
تاریک راستوں سے دھلتے ہیں بے وطن
کانوں میں آرہی ہے صدائیں بے زن بے زن
سب محروماه لے کے کہیں چھپ گئی ہے شام
---سب جل چکے
قاسم سا نوجواں علی اصغر سا مہہ رو
عباس سا جری علی اکبر سا خوش گلو
کیا کیا چراغ تھے جنہیں روتی رہے گی شام
---سب جل چکے
بیٹھے ہوئے راکھ پے جھل سے ہوئے بدن
سہمے ہوئے تھکے ہوئے دکھتے ہوئے بدن
اے رات زخم زخم بلکتے ہو وں کو تھام
---سب جل چکے
آنکھوں کے سامنے ہی بہا عصر تک لہو
آنکھوں کے سامنے ہی لگائی آگ چار سو
یہ خوں یہ آگ جھیل لی بانو تمہیں سلام
---سب جل چکے
آتا ہوا سوار جو دیکھا سوئے خیام
گونجی صدائے دختر زہرائے نیک نام
بابا میرا سلام لو بابا میرا سلام
---سب جل چکے
سر کو جھکائے خاک پر بیٹھا ہے ایک جواں
گردن میں طوق پائوں میں لپٹی ہیں بیڑیاں
ہے زیر اب نوید یہ آواز شام شام
---سب جل چکے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.