Qaimon ko jalaya
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shame Ghariban recited by Ameer Hasan Aamir
خیموں کو جلایا گیا عباس نہ آے
مقتل میں دھواں چھا گیا عباس نہ آے
مقتل کی زمیں پر جو ستاروں کی طرح تھے
وہ لاشے جو قرآن کے پاروں کی طرح تھے
ان لاشوں کو روندا گیا عباس نہ آے
خیموں کو جلایا گیا۔۔۔
تھے بین سکینہ کے میں اب کس کو بلاؤں
رخ پر یہ طمانچوں کے نشاں کس کو دکھاؤں
چہرہ میرا سنہا گیا عباس نہ آے
خیموں کو جلایا گیا۔۔۔
زینب نے یتیموں کو کبھی خود کو سنبھالا
جلتے ہوئے خیموں سے بھتیجے کو نکالا
دل درد سے گھبرا گیا عباس نہ آے
خیموں کو جلایا گیا۔۔۔
زینب نے کہا مجھ پہ چلے تنز کے نشتر
جس وقت اتاری گیء سر سے میرے چادر
خود مجھ سے یہ پوچھا گیا عباس نہ آے
خیموں کو جلایا گیا۔۔۔
آی تھی بڑی شان سے زینب کی عماری
جاتی ہے سوے شام اسیروں کی سواری
زینب کو رلایا گیا عباس نہ آے
خیموں کو جلایا گیا۔۔۔
دروں کے ستم عابد بیمار سے پوچھو
کہتے ہیں کسے قید گرفتار سے پوچھو
کانٹوں پہ پھرایا گیا عباس نہ آے
خیموں کو جلایا گیا۔۔۔
پیاسے رہے اطفال بہ حیا گےء کوزے
پانی کے تقاضے پہ دکھاے گےء کوزے
دکھیوں کو ستایا گیا عباس نہ آئے
خیموں کو جلایا گیا۔۔۔
سجاد نہ بھولے کبھی وہ شام کا منظر
سادات پہ مارے گےء بازاروں میں پتھر
صدقہ کبھی پھینکا گیا عباس نہ آے
خیموں کو جلایا گیا۔۔۔
وہ حشر کا ہنگام قیامت کی گھڑی تھی
بے پردہ بہن کرسی نشینوں میں کھڑی تھی
دربار سجایا گیا عباس نہ آے
خیموں کو جلایا گیا۔۔۔
پھر شام ڈھلی قید میں گھبرای سکینہ
رخ سوے فلک کر کے یہ چلای سکینہ
ہر ایک پرندہ گیا عباس نہ آے
خیموں کو جلایا گیا۔۔۔
پھر عامر و نیر وہی محشر کی گھڑی ہے
صغرا سے پھپھی کیسے کہے سوچ رہی ہے
کنبہ تیرا گھر آ گیا عباس نہ آے
خیموں کو جلایا گیا۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.