Neend kya khaak
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shame Ghariban recited by Farhan Ali Waris
شام کے گھپ اَندھیرے میں سکینہ کی فغاں تھی
آپ کے سینہ تو تیروں سے بھرا ہے
نیند کیا خاک پہ آے گی بابا
ماں کی آغوش یا آغوش پدر بھاتی ہے
نیند بچوں کو اندھیرے میں کہاں آتی ہے
یاد سینے کی ستاے گی بابا
آپ کے سینہ تو۔۔۔
نیند کیا خاک پہ۔۔۔
آگ اور خون کے ماحول سے گھبرای ہوں
اس لےء آپ کے لاشے پہ چلی آی ہوں
کچھ کمی درد میں آے گی بابا
آپ کے سینہ تو۔۔۔
نیند کیا خاک پہ۔۔۔
اب دہکتے ہوے صحرا کو کہوں گی بستر
میرا تکیہ ہے یہ پتھر تو فلک ہے چادر
ہاں یہ غربت ہی رلاے گی بابا
آپ کے سینہ تو۔۔۔
نیند کیا خاک پہ۔۔۔
آپ روٹھے تو مقدر بھی میرا روٹھ گیا
ہو گیا ٹکڑے جگر غم سے یہ دل ٹوٹ گیا
زندگی چین نہ پاے گی بابا
آپ کے سینہ تو۔۔۔
نیند کیا خاک پہ۔۔۔
کیا اسی دن کے لیےء رب سے مجھے مانگا تھا
وقت مشکل میں اکیلا جو مجھے چھوڑ دیا
اب سکینہ کہاں جاے گی بابا
آپ کے سینہ تو۔۔۔
نیند کیا خاک پہ۔۔۔
تم تڑپ جاتے سکینہ جو کبھی روتی تھی
آہ کرتی تھی میں تکلیف تمہیں ہوتی تھی
اک ایک بات رلاے گی بابا
آپ کے سینہ تو۔۔۔
نیند کیا خاک پہ۔۔۔
ہر دفعہ مجھکو ہی سینے پہ سلایا بابا
آج کیوں تیروں کو سینے پہ سلایا بابا
نہ سکینہ یہ بھلاے گی بابا
آپ کے سینہ تو۔۔۔
نیند کیا خاک پہ۔۔۔
کیسے فرحان یہ روداد لکھے گا مظہر
باپ سے کہتی تھی مقتل میں سکینہ رو کر
بات یہ مجھکو جگاے گی بابا
آپ کے سینہ تو۔۔۔
نیند کیا خاک پہ۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.