Kya kare zainab
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shame Ghariban recited by Raza Abbas Zaidi
شام غریباں شام غریباں
جل گئے خیمے سوگیا لشکر
لٹ گیا سارا گھر زینب کا اب ہے تنہا
نا سرور ہے نا اکبر ہے نا غازی ہے
لعیں نیزے سے چادر چھینتا ہے کیا کرے زینب
تھی جس بھائی سے ڈھارس مرگیا ہے کیا کرے زینب
مناتا ہے خوشی ظالم دکھاتا ہے مجھے خنجر
بلا عباس کو اپنے یہ کہتا ہے وہ ہنس ہنس کر
لہو چادر سے میری پونچھتا ہے کیا کرے زینب
لعیں نیزے سے چادر۔۔۔
تری ہر ضرب کا غازی بہن سے لے گا وہ بدلہ
لعیں خیمے میں آیا ہے اُٹھاکر ہاتھ میں دُرہ
تمہی بنتِ علی ہو پوچھتا ہے کیا کرے زینب
لعیں نیزے سے چادر۔۔۔
بڑی غربت کا عالم ہے بندھے ہیں ہاتھ گردن سے
بجھائے آگ وہ کیسے سکینہ تیرے دامن سے
اور اب ظالم طمانچہ مارتا ہے کیا کرے زینب
لعیں نیزے سے چادر۔۔۔
کہا زینب نے عابد سے امامِ وقت بتلائیں
یہیں خیموں میں جل جائیں یا ہم باہر نکل جائیں
اُٹھو سجاد مشکل مرحلہ ہے کیا کرے زینب
لعیں نیزے سے چادر۔۔۔
کہا یہ سعد کے بیٹے نے آکر ابنِ نوفل سے
سفر میں چاہے سب سوئیں مگر زینب نہیں سوئے
ابھی سے ورم رُخ پر آگیا ہے کیا کرے زینب
لعیں نیزے سے چادر۔۔۔
اُسے اک ماں کی طرح اپنے سینے سے لگا لیتی
رسن ہاتھوں میں نا ہوتی تو گرنے سے بچا لیتی
سرِ غازی سناں سے گر رہا ہے کیا کرے زینب
لعیں نیزے سے چادر۔۔۔
کوئی اپنا نہیں تنہا کھڑی ہے دشت میں دیکھو
کفن کیسے دے اٹھارا بنی ہاشم کے لاشوں کو
مدینہ تو نہیں یہ کربلا ہے کیا کرے زینب
لعیں نیزے سے چادر۔۔۔
کہاں ہو لعل آجاؤ تمہیں ماں یاد کرتی ہے
اُٹھاکر راکھ ہاتھوں میں رباب اک سمت بیٹھی ہے
علی اصغر کا جھولا جل چکا ہے کیا کرے زینب
لعیں نیزے سے چادر۔۔۔
ہے پہلی شب یتیمی کی اُسے نیند آئیگی کیسے
اے ذیشان و رضا بالی سکینہ سوتی تھی جس پے
وہ سینہ رن میں تیروں سے بھرا ہے کیا کرے زینب
لعیں نیزے سے چادر۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.