Kar rahi hai dastane
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shame Ghariban recited by Shadman Raza
ہاے شام غریباں
کر رہی ہے داستانِ غم بیاں خیموں کی راخ
ہاے یہ قسمت کہاں زینب کہاں خیموں کی راخ
سر چھپانے کے لئے جاے بھی تو جاے کدھر
خوں کے پیاسے نظر آتے ہیں تا حد نظر
دور تک پھیلی ہے زیر آسماں خیموں کی راخ
کر رہی ہے داستانِ۔۔۔
عالم اسلام کو غیرت دلانے کے لئے
ظلم کس حد تک ہوے ہے یہ بتانے کے لئے
لے گیء ہے شام تک سیدانیاں خیموں کی راخ
کر رہی ہے داستانِ۔۔۔
کربلا کی خاک پر خوں میں نہا کر سو گےء
ناز زینب کو تھا جن پر قتل وہ سب ہو گےء
کاش اڑتے دیکھتے پیر و جواں خیموں کی راخ
کر رہی ہے داستانِ۔۔۔
بیڑیاں نیزے رسن پتھر عطش اور گھرکیاں
کیا یہی قسمت میں لکھا تھا کہ دیکھے ہم یہاں
نیزہ و شمشیر و خنجر برچھیاں خیموں کی راخ
کر رہی ہے داستانِ۔۔۔
ہم اسے غربت سکینہ کی کہیں یا بے بسی
سر چھپانے کے لئے جانے حسین ابنِ علی
ڈالتی ہے سر میں بھر کے مٹھیاں خیموں کی راخ
کر رہی ہے داستانِ۔۔۔
راخ نے بہتے لہو کو جزب جس دم کر لیا
چند لمحے ہی سحیح پر دیکھنے میں یوں لگا
بن گیء کانوں کی جیسے بالیاں خیموں کی راخ
کر رہی ہے داستانِ۔۔۔
رحمتوں کا رات دن واللہ ہوتا ہے نزول
کھل رہے ہیں آج اس جا صبر شبیر کے پھول
چار سوں پھیلی ہوی تھی کل جہاں خیموں کی راخ
کر رہی ہے داستانِ۔۔۔
اللّٰہ اللّٰہ کربلا سے شام تک کا امتحان
کر نہیں سکتا کوئی آصف کسی صورت بیان
شادماں اس غم میں خود ہے نوحہ خواں خیموں کی راخ
کر رہی ہے داستانِ۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.