Kaisi ye shaam aayi
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shame Ghariban recited by Nasir Asghar Party
کیسی یہ شام آی اولاد سیدہ پر
سجاد رو رہے ہیں زینب سے منہ چھپا کر
اک سمت بے کفن ہے بھای کا اس کے لاشہ
عباس کی بہن کا باقی رہا نہ پردہ
اب سونچتی ہے زینب مانگے کفن یا چادر
کیسی یہ شام آی۔۔۔
بازو کہیں پڑے ہیں لاشہ کہیں پڑا ہے
زینب کی بے بسی پہ پرغازی تڑپ رہا ہے
روتی ہے بیکسی بھی فرش عزا بچھا کر
کیسی یہ شام آی۔۔۔
جو گھر میں دو قدم بھی پیدل نہیں چلی ہے
اک دن میں وہ ہی زینب عباس بن گیء ہے
پہرے پہ آ گیء ہے تنہا الم اٹھا کر
کیسی یہ شام آی۔۔۔
سجاد سے لپٹ کر کہتی رہی سکینہ
احساس ہو رہا ہے میں ہو گیء یتیمہ
ظالم ڈرا رہا ہے نیزہ دکھا دکھا کر
کیسی یہ شام آی۔۔۔
لاشوں کے درمیاں وہ بابا کو ڈھونڈتی ہے
منہ اپنا پیٹ کر یہ فریاد کر رہی ہے
قدموں میں ہی سلا دو بابا مجھے بلا کر
کیسی یہ شام آی۔۔۔
جب آ گےء نجف سے بیٹی کو ملنے بابا
زانوں پہ رکھ کے سر یہ کہنے لگی وہ دکھیا
زینب اجڑ گیء ہے کربوبلا بسا کر
کیسی یہ شام آی۔۔۔
خیموں کے ساتھ جھولا بستر بھی جل گیا ہے
ناموسِ مصطفیٰ کو باغی کہا گیا ہے
لے جاےنگے صبح کو قیدی ہمیں بنا کر
کیسی یہ شام آی۔۔۔
گزرے گی کیسے یاور مقتل سے شاہزادی
عابد نے رات مومن یہ سونچ کر گزاری
زینب کا نام لے گا ظالم جو مسکرا کر
کیسی یہ شام آی۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.