Jalte hue qaime hai
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shame Ghariban recited by Hasan Sadiq
ہے دُخترِ شیرِ خُدا جو کربلا میں ہے بے ردا
جلتے ہوئے خیمے ہیں نہ بھائی نہ ردا ہے
اُمت سے ملا کیسا یہ زینب کو صلہ ہے
آلِ عبا کے سر ہیں چڑھے نوکِ سِناں پر
لاشے پڑے ہیں ہر سُو جو سب رگِ تپاں پر
پہناتی اُنھیں بن میں کفن خاکِ شفائ ہے
جلتے ہوئے خیمے ہیں۔۔۔
عابد کو لا رہی ہے وہ کاندھوں پہ اُٹھا کر
اور شمر کو کہتی ہے ذرا خوفِ خُدا کر
کوئی نہ رہا اک یہ ہی بیمار بچا ہے
جلتے ہوئے خیمے ہیں۔۔۔
کرتے ہیں سب فرشتے شبیر کا ماتم
کرتی ہیں حور و غلمہ بے شیر کا ماتم
ماتم شہِ بے کس کا سرِ عرش بپا ہے
جلتے ہوئے خیمے ہیں۔۔۔
اس بات کی اے شامِ غریباں ہے گواہ تُو
تارے نہیں یہ ثانیئے زہرا کے ہیں آنسو
خورشید نہیں آج تو خود روتا خُدا ہے
جلتے ہوئے خیمے ہیں۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.