Haye shame ghariban
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shame Ghariban recited by Mir Mohsin Ali
ہاے شام غریباں
کنبے کی نگہبان یہ کہتی ہے لرز کر
رک جا سوار میرا لوٹا گیا ہے گھر
رک جا ابھی سوے ہیں بچے میرے رو کر
ڈالا جو ہاتھ غیض سے اسپ لگام پر
پردہ اٹھا دیا پھر گھوڑے کے سوار نے
زینب یہ رو کے کہنے لگی بابا کے سامنے
اب آے ہو بابا میرے کنبہ ہے اب کہاں
ہاے شام غریباں۔۔۔
عباس کھو چکی ہوں میں اکبر پہ رو چکی
بھیا تمہارے بعد میں برباد ہو چکی
زندہ میں کیسے رہ گیء میری موت ہے کہاں
ہاے شام غریباں۔۔۔
قاسم کی لاش ٹکڑوں میں تقسیم ہو چکی
بھیا حسن کی یہ بھی نشانی بھی مٹ چکی
دلہن ہے ایک روز کی دولہا ہے اب کہاں
ہاے شام غریباں۔۔۔
اصغر کے حوصلے پہ جوانی بھی رو چکی
سوکھی زباں پہ فوج ستمگر بھی رو چکی
آغوش میں رباب کی اصغر ہے اب کہاں
ہاے شام غریباں۔۔۔
لای تھی اپنے ساتھ وہ انصار کھو چکی
نانا تمہارے دین پہ قربان کر چکی
میں بھی تو بے ردا ہوی چادر ہے اب کہاں
ہاے شام غریباں۔۔۔
بابا میں کیا بتاؤں کہ کیا کیا میں سہہ چکی
بھیا کی لاش تیروں کے بستر پہ سو چکی
بھای کے میرے جسم پہ اب سر بھی ہے کہاں
ہاے شام غریباں۔۔۔
پیاسی سکینہ بین یہ کر کر کے سو چکی
عمو ہمارے کانوں سے بالی بھی چھن چکی
کہتی ہے ہر طمانچے پہ بابا ہو اب کہاں
ہاے شام غریباں۔۔۔
فوج یزید شام کی حد سے گزر چکی
خیمے جلاے قیدی بھی ہم کو بنا چکی
ظالم یہ مجھ سے کہتے ہیں سجاد ہے کہاں
ہاے شام غریباں۔۔۔
محسن دعاے فاطمہ زہرا بھی مل چکی
حیدر سے ہر اماموں کی کڑیاں بھی مل چکی
رہبر کا ہم پہ ہاتھ ہے اوروں کو اب کہاں
ہاے شام غریباں۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.