Ay Chaand Muharram Kay
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Chand Raat recited by Syed Muhammad Shah
اے چاند محرم کے تو بدلی میں چلا جا
تجھے دیکھ کے مر جائے نہ بیمار ہے صغراؑ
گھر زہراؑ کا لٹنے کی خبر تو نے سنائی
تجھے دیکھ کے روتی ہے محرم میں خدائی
چودہ سَو برس بیتے سب کرتے ہیں شکوہ
وعدہ جو کیا بہن کو سینے سے لگا کے
میں شادی کروں گا تو تیرے پاس ہی آکے
میں سات محرم کو لوٹوں گا نہ گھبرا
بہنوں کا تو بھائیوں سے رشتہ ہی عجب ہے
تم بھول گئے مجھ کو یہ کیسا غضب ہے
اِس آس پہ زندہ ہوں دیکھوں تیرا سہرا
گن گن کے جو صغرا نے یہ دن ہیں گزارے
زندہ ہے تو اکبر کے وعدوں کے سہارے
دن رات تڑپتی ہے اسے اور نہ ترپا
قاصد کو دیا خط میں یہ پیغام لکھا کے
ایک بار تو مل جا مجھے سینے سے لگا کے
پتھرائ ہوئی نظریں کب دیکھیں گی چہرا
صغرا کے نصیبوں میں تو رونا ہی لکھا ہے
سردار معصومہ کو ملی کیسی سزا ہے
خط آیا نہ اکبر کا بیٹھی رہی صغرا
ملنے کے لئے بھائی کو بےچین بڑی ہے
کب سے علی اکبرؑ کی یہ راہوں میں کھڑی ہے
بچھڑی ہے یہ مدت سے اِسے تو نہ نظر آ
بھیا کی جدائی میں پریشان ہے رہتی
ہر روز یہ نانا کو رو رو کے ہے کہتی
اکبرؑ نہ ملِا نانا میں مر جاؤں گی تنہا
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.