Haye shaame ghariban
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shame Ghariban recited by Sajid Jafri
جس شام جلاے گےء سادات کے قیام
گزری نہیں وہ شام
پیوست ہے خنجر کی طرح دل پہ وہ ہنگام
گزری نہیں وہ شام
سر بن کے ردا بن کے سر نوکِ سِناں ہے
شعلہ ہے دھواں ہے
ہے جو تہہ زنجیر تہہ طوقِ تہہ نام
گزری نہیں وہ شام
جس شام جلاے گےء۔۔۔
مقتل کا طواف اب بھی اسی طرح ہے جاری
اک ضعف ہے طاری
کھولا ہی نہیں وقت نے اس شام کے احرام
گزری نہیں وہ شام
جس شام جلاے گےء۔۔۔
جس شام کی غربت نے دکھایا دل سجاد
رلایا دل سجاد
زینب نے جسے شام غریباں کا دیا نام
گزری نہیں وہ شام
جس شام جلاے گےء۔۔۔
یہ سارے اذل سارے ابد جس میں سماے
اب کیا کہوں ہاے
جس میں سمٹ آیا ہے ہر آغاز ہر انجام
گزری نہیں وہ شام
جس شام جلاے گےء۔۔۔
اٹھتی ہے وہی آندھیاں کٹ جاتا ہے سینہ
پھٹ جاتا ہے سینہ
ہر شام مجھے یاد دلاتی ہے وہی شام
گزری نہیں وہ شام
جس شام جلاے گےء۔۔۔
جس راخ میں دل میرا نوید آہ دبا ہے
اور راکھ ہوا ہے
اس راخ میں رہ رہ کے بھڑکتی ہے وہی شام
گزری نہیں وہ شام
جس شام جلاے گےء۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.