Hai mere ammu kahan
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shame Ghariban recited by Ali Zia Rizvi
بالی سکینہ یہی کرتی تھی رورو فغاں
ہیں میرے عمو کہاں بابا کہاں
ہونے لگی ہے دشت میں شام غریباں عیاں
---ہیں میرے عمو
جانے کدھر آج سب ناصر و یاور گےء
کیسی قیامت ہوئی قاسم و اکبر گےء
جستجو آب میں ثانیء حیدر گےء
ننھے مجاہد کے ساتھ سبط پیمبر گےء
ڈھونڈ رہی ہوں مگر ملتا نہیں کچھ نشاں
---ہیں میرے عمو
لشکر کفار میں دھوم ہے کیوں اس قدر
سوچ رہی ہوں یہی آی ہے کیسی خبر
چاک گریبان کےء روتا ہے سب گھر کا گھر
ہوش کسی کو نہیں کیا کروں جاؤں کدھر
کویء بتاےء مجھے کیوں ہے یہ آہ و فغاں
---ہیں میرے عمو
خیموں میں بے اذن ہی آگےء سب اہل شر
ظلم کی حد توڑدی عابد بیمار پر
لوٹ لی سر سے ردا لوٹ کے سب مال و زر
شمر لعیں لے گیا چھین کے میرے گوہر
جاکے دکھاؤنگی میں کانوں سے خوں ہے رواں
---ہیں میرے عمو
پیاسی ہوں یہ لفظ ہی لب پہ نہ لاؤ نگی میں
انکی جدائی کا غم کیسے اٹھاؤنگی میں
موت سے پہلے انہیں دیکھ بھی پاؤنگی میں
جب بھی ملیں گے مجھے انکو بتاؤں گی میں
مارے طمانچے مجھے شمر نے دی گھرکیاں
---ہیں میرے عمو
اور انیس حزیں حال کرے کیا رقم
ظلم کی جب سیلیاں کھا چکے اہل حرم
آل محمد پہ پھر ٹوٹا نیا اک ستم
دیکھو کہ بچوں میں ہے بالی سکینہ بھی تو
کرتی تھی جو دم بہ دم روکے یہی اک فغاں
---ہیں میرے عمو
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.