Dhuan uth raha
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shame Ghariban recited by Farhan Ali Waris
ہاے شام غریباں
غریبوں کی شام
اسیروں کے شام
پیاسوں کی شام
شام غریباں
جل چکے سادات کے خیمے
دھواں اٹھ رہا ہے
اجڑے گھروں کی شام ہے
تشنہ لبوں کی شام ہے
ٹوٹے دلوں کی شام ہے
بجھ گےء جتنے دیےء تھے
دھواں اٹھ رہا۔۔۔
کچھ دیر پہلے لوٹنے
ظالم یہاں پر آے تھے
سب کی ردائیں لے گےء
رہ گےء بس جلتے خیمے
دھواں اٹھ رہا۔۔۔
مسند جلی جھولا جلا
بستر بھی عابد کا جلا
خیموں میں اور کیا کیا جلا
آج پھر زہرا کے گھر سے
دھواں اٹھ رہا۔۔۔
لاے بچا کر تشنہ کام
شعلوں کی ضد پر تھے امام
زینب کی ہمت کو سلام
بستر زین العباء سے
دھواں اٹھ رہا۔۔۔
پردہ نشیں ہے خاک بسر
چھوٹے بڑے سب نوحہ گر
چپ ہے سکینہ کیوں مگر
اس یتیمہ کے ہی دل سے
دھواں اٹھ رہا۔۔۔
ہر سوں اداسی چھا گیء
آل نبی گھبرا گیء
پہرے پہ زینب آ گیء
دیکھلو عباس آ کے
دھواں اٹھ رہا۔۔۔
ہاتھوں میں لے کر حاضری
جب حر کی زوجہ آے تھے
سر پیٹ کر کہنے لگی
ہو گیء تاقیر مجھ سے
دھواں اٹھ رہا۔۔۔
بابا سے زینب نے کہا
اب آے ہو مشکل کشاء
جب میرا سب کچھ لٹ گیا
دیکھلو خیموں سے میرے
دھواں اٹھ رہا۔۔۔
فرحان و مظہر عابدی
دسویں کی شب ڈھلتی رہی
آل نبی روتی رہی
مرثیہ زینب کا سن کے
دھواں اٹھ رہا۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.