Chin gayi sar se rida
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shame Ghariban recited by Nadeem Sarwar
آلِ محمد پہ آفت کی گھڑی ہے
بھیا تیری بہنا سر ننگے کھڑی ہے
نالہ و شیون سے اک حشر بپا ہے
کوئی نہ وارث رہا خیمہ ہر اک جل گیا
چھن گئی سر سے ردا کرتی تھی زینب بُکا
اُٹھنے لگے خیموں سے آگ کے شولے
کیسے تیری بہنا بچوں کو سنبھالے
غش میں میرا عابد شولوں میں گھِرا ہے
چھن گئی سر سے ردا۔۔۔
ہائے علی اکبر تم کیوں نہیں آئے
ظالموں نے آکے سب خیمے جلائے
کون کرے نصرت کوئی نہ رہا ہے
چھن گئی سر سے ردا۔۔۔
چھین لیئے کانوں سے شمر نے گوہر
کس سے کرے شکوہ بابا نہ برادر
خون سکینہ کے کانوں سے بہا ہے
چھن گئی سر سے ردا۔۔۔
آگ نے دامن کو جب اُس کے جلایا
بالی سکینہ نے رو رو کے سُنایا
دشتِ بیاباں ہے اور کربوبلا ہے
چھن گئی سر سے ردا۔۔۔
موت کے صحرا میں غم گردہ حراساں
ڈھونڈتی ہے بچی ہر سمت پریشاں
لب پہ فقط بابا کی صدا ہے
چھن گئی سر سے ردا۔۔۔
مقتل میں گونجی آوازِ بنیاہے
یوں نہ کرو نالے ایلیّا ایلیّا
دور ہے دریا بھی اور خونی فضا ہے
چھن گئی سر سے ردا۔۔۔
تیرے چچا کو ہے اس وقت ازیت
جائو نہ دریا پہ گر ہے کوئی اُلفت
مجھ سے کہو بیٹا جو اُن سے گلہ ہے
چھن گئی سر سے ردا۔۔۔
تیری پھپی بیٹا صحرائے بلا میں
ڈھوندتی ہے تم کو وہ گِردو نوا میں
تیری جدائی سے مصروفِ بُکاہے
چھن گئی سر سے ردا۔۔۔
سُن کے انیسِ غم یہ نوحہ ارم میں
حُور و ملک نالے کرنے لگے غم میں
مجلسِ سرور میں کہرام بپا ہے
چھن گئی سر سے ردا۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.