Woh khoon rokay yeh kehta raha zamanay say
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Sajjad (a.s) recited by Asghar Khan
وہ خون رو کے یہ کہتا رہا زمانے سے
ردائیں چھینوں نہ لوگوں میرے گھرانے سے
سوال آب پر سونے پہ اس کے رونے پہ
وہ مارتے تھے سکینہ کو ہر بہانے سے
بلائیں کس طرح عباس کو مدد کے لئے
وہ بے ردا تھیں جھجکتی رہیں بلانے سے
سلایا جاتا تھا بے ہوش کر کے دروں سے
جگایا جاتا تھا عابد کو تازیانے سے
کچھ اسطرح سر کرب و بلا وہ اجڑے تھے
کہ ڈر رہے ہیں ابھی تک وہ گھر بسانے سے
کہا یہ گنجے شہیداں میں باپ کے سر نے
مجھے سکینہ بلاتی ہے قید خانے سے
ردائے ثانی زہرہ میں ڈھل گیا اکبر
غبار اُٹھا جو لاشوں کے تھر تھرانے سے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.