Bibiyan rehgayi
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shame Ghariban recited by Nadeem Sarwar
سوگیا لشکر اے شامِ غریباں
بیبیاں رہ گئیں
جلتے ہوئے خیموں کی بجھتی راکھ پر
بیبیاں رہ گئیں
دل سے لگائے داغ بہتر نوحہ گر
بیبیاں رہ گئیں
شامِ غریباں سے کچھ پہلے
جھولا چادر بستر تھا
پہلو میں ہمشکلِ پیمبر
گودِ میں ماں کی اصغر تھا
گودیاں خالی مانگیں اُجڑیں بے پسر
بیبیاں رہ گئیں
جلتے ہوئے خیموں کی ۔۔۔
ہے یہ ابوطالب کا کنبہ
بیٹیاں ساری حیدر کی
عظمتِ زہرا عظمتِ مریم
عزت تھی پیغمبر کی
چادریں مانگتیں نامِ پیمبر در بدر
بیبیاں رہ گئیں
جلتے ہوئے خیموں کی ۔۔۔
ڈھلتا سورج سوچ رہا ہے
وقتِ سحرکیا منظر تھا
محوِ عبادت زیرعلم
شبیر کا سارا لشکر تھا
سوگیا لشکر جاگنے والی رات بھر
بیبیاں رہ گئیں
جلتے ہوئے خیموں کی ۔۔۔
دریا موجیں مار رہا ہے
پیاس ابھی تک باقی ہے
شاید غازی لوٹ کے آئے
آس ابھی تک باقی ہے
دیکھ زرا زینب کے برادر جاگ کر
بیبیاں رہ گئیں
جلتے ہوئے خیموں کی ۔۔۔
کوئی نہیں جو پو چھ لے آکر
کیا ہوئی زینب تیری چادر
تیرے تو تھے اٹھارہ برادر
کیوں ہے اکیلی پہرے پر
ہمسفر مقتول ہوئے سب ہمسفر
بیبیاں رہ گئیں
جلتے ہوئے خیموں کی ۔۔۔
سوچوں زرا ریحان اور سرور
شامِ غریباں کا و ہ منظر
چاک گریباں آئے جو حیدر
دیکھ کے زینب کوپہرے پر
رو دیئے حیدر خیمے مقتل دیکھ کر
بیبیاں رہ گئیں
جلتے ہوئے خیموں کی ۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.