Behan mai saath saath
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shame Ghariban recited by Nadeem Sarwar
رسن میں بندھ چکا گلا
لو چل پڑا وہ قافلہ
بہن غریب نوحہ گر
سناں پہ جب پڑی نظر
خاموش تھے شہید سب
اخی کے ہل رہے تھے لب
سناں پہ ہوں تو کیا ہوا
تُو حوصلہ نہ ہارن
بہن میں ساتھ ساتھ ہوں
غریبِ کربلا بہن
دلیرو باوفا بہن
غموں کی علقمہ بہن
میری مسافرہ بہن
تُو حوصلہ نہ ہارنا
سناں پہ ہوں تو کیا۔۔۔
بہن میں ساتھ۔۔۔
وفا ئے وعدہ ہوچکا
سناں تلک میں آگیا
میں اپنا کام کر چکا
میری شریکِ کربلا
تُو حوصلہ نہ ہارنا
سناں پہ ہوں تو کیا۔۔۔
بہن میں ساتھ۔۔۔
یہ رسیاں یہ بیڑیاں
قدم قدم پہ سختیاں
ردا بغیر بیبیاں
بہن کڑاہے امتحاں
تُو حوصلہ نہ ہارنا
سناں پہ ہوں تو کیا۔۔۔
بہن میں ساتھ۔۔۔
اگر ہے راستہ کٹھن
ذرا نہ ڈر میری بہن
تُو بے ردا میں بے کفن
ہے وقت حوصلہ شکن
تُو حوصلہ نہ ہارنا
سناں پہ ہوں تو کیا۔۔۔
بہن میں ساتھ۔۔۔
قدم قدم شہادتیں
گزر گئیں قیامتیں
ابھی ہیں اور آفتیں
سنبھال اب امانتیں
تُو حوصلہ نہ ہارنا
سناں پہ ہوں تو کیا۔۔۔
بہن میں ساتھ۔۔۔
کوئی بھی اب نہیں بچا
بس عابدِ شکستہ پا
یہ ساربانِ غم زدا
گرے جو کھا کے غش زرا
تُو حوصلہ نہ ہارنا
سناں پہ ہوں تو کیا۔۔۔
بہن میں ساتھ۔۔۔
بہن ٹھہرٹھہر یہیں
لرز رہی ہے کیوں زمیں
سکینہ گرگئی کہیں
نہ مِل سکے جو وہ حزیں
تُو حوصلہ نہ ہارنا
سناں پہ ہوں تو کیا۔۔۔
بہن میں ساتھ۔۔۔
بہت قریب شام ہے
ہجومِ خاص وعام ہے
یزید بد کلام ہے
یہ وقتِ انتقام ہے
تُو حوصلہ نہ ہارنا
سناں پہ ہوں تو کیا۔۔۔
بہن میں ساتھ۔۔۔
ریحان وسرورِعزا
جو شام پہنچا قافلہ
سرِ حسین نے کہا
اُلٹ دے تخت شام کا
تُو حوصلہ نہ ہارنا
سناں پہ ہوں تو کیا۔۔۔
بہن میں ساتھ۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.