Baba mujhe neend
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shame Ghariban recited by Safdar Abbas
جب بالی سکینہ کو ملی لاش پدر کی
بابا کے قریب آ کے یہ کہنے لگی بچی
رخسار بھی زخمی میرا دامن بھی جلا ہے
جا گی ہوں کیء روز کی ایک یہ بھی جفا ہے
تم نے بھی نہ پوچھا تو بہت روؤں گی بابا
تم خود ہی بتا دو کہاں سوؤں گی بابا
بابا مجھے اب نیند آ رہی ہے
سینے سے تیروں کو تم ہٹالو
بابا مجھے اب نیند آ رہی ہے
سو زخم سہہ کر بھی روی نہیں ہوں
میں آٹھ پہروں سے سوی نہیں ہوں
سونے نہیں دیتی فرقت تمہاری
لای یہاں تک محبت تمہاری
ایک بار اٹھ کر گلے سے لگا لو
بابا مجھے اب۔۔۔
جب سے گےء آپ غم بھی سوا ہے
بے وارثوں پر ستم بھی سوا ہے
کرتے ہیں نوحہ دل و جان میرے
رخسار زخمی ہے اور کان میرے
ہاتھوں کو اپنے جھولا بنا لو
بابا مجھے اب۔۔۔
پہنای جو عید پر تم نے مجھکو
وہ بالیاں چھن گیء بابا دیکھو
کانوں سے میرے لہو بہہ رہا ہے
رخسار نیلے ہیں دامن جلا ہے
ہوں چور زخموں سے تم سنبھالو
بابا مجھے اب۔۔۔
آواز سنتی ہوی یا بنیہ
پہنچی ہوں لاشے تلک محو گریہ
رخسار سینے پہ رکھوں میں کیسے
اے بابا سینے پہ ہے تیر اتنے
کچھ دیر پہلو میں ہی سلا لو
بابا مجھے اب۔۔۔
دیکھی نہیں جاتی حالت تمہاری
مجھکو رلاتی ہے غربت تمہاری
یہ سوچ کر پاس آی تمہارے
پھر شمر مجھکو طمانچے نہ مارے
ظالم کی نظروں سے مجھکو چھپالو
بابا مجھے اب۔۔۔
بابا مصائب سے چھلنی جگر ہے
ایک شب کی مہمان ہوں کل سفر ہے
بس آخری رات سونے دو بابا
پھر سو سکے گی نہ بالی سکینہ
مجھکو بھی دیدو سکوں تم بھی پا لو
بابا مجھے اب۔۔۔
اماں سے اکثر سنا ہے یہ میں نے
جنت سے آے تھے کپڑے تمہارے
قدرت تمہاری ہے پیاسے مسافر
میں ہوں پریشان اب میری خاطر
جنت سے کوئی بچھونا منگا لو
بابا مجھے اب۔۔۔
مظہر سکینہ کی اس بیکسی پر
قربان ہو جائے میں اور صفدر
روتے تھے یہ سن کے شاہ مدینہ
کرتی تھی فریاد بالی سکینہ
سینے سے تیروں کو تم ہٹا لو
بابا مجھے اب۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.